حیات شمس

by Other Authors

Page 155 of 748

حیات شمس — Page 155

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس پر پارلیمنٹ میں سوال کیا گیا کہ کیوں اعلان شائع نہیں ہوا۔آخر گورنمنٹ کو ماننا پڑا کہ غلطی ہوئی ہے اور اب جلد شائع کر دیا جائے گا۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ پادریوں کی کس قدر قدر کی جاتی ہے۔بیشک لوگ ان کی مذہبی باتوں پر ہنستے بھی ہیں مگر ان کی قدر بھی کرتے ہیں کہ ملک کو ترقی دینے اور اٹھانے میں حصہ لیتے ہیں۔155 ابھی ہم جب ولایت مذہبی کا نفرنس کے موقعہ پر گئے تو بڑے بڑے لوگ پادریوں پر ہنتے تھے کہ وہ اس وجہ سے کانفرنس میں شامل نہیں ہوئے کہ اس طرح لوگوں کو پتہ لگ جائے گا کہ دنیا میں اور مذاہب بھی ہیں مگر کیا ہم اندھے ہیں کہ یہ بات پہلے نہیں جانتے۔اس طرح پادریوں پر بنتے بھی ہیں۔ابھی ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یورپ کے 70 فی صدی لوگ عیسائیت کے خلاف ہیں مگر باوجود اس کے پادریوں کی قدر کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ تمدنی زندگی کی اصلاح کر رہے ہیں اور اگر ان کو نکالا یا گیا تو حکومت کا سسٹم ٹوٹ جائے گا۔وہ بات جو پادریوں کی قدر کراتی ہے یہ ہے کہ پادری روزانہ گھر سے نکلتا ہے، ایک علاقہ میں چکر لگاتا ہے غریبوں کے گھروں میں جاتا ہے ان کی حالت پوچھتا ہے، بیماروں کی بیمار پرسی کرتا ہے، کوئی بیوہ ہو جسے خرچ کی تنگی ہوا سے لوگوں سے چندہ کر کے خرچ پہنچاتا ہے مالدار لوگوں کو غربا کی مدد اور ہمدردی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ایسے لوگوں کے متعلق کیا کوئی قوم برداشت کر سکتی ہے کہ ان کو نکالا جائے ؟ وہ ان کی قدر کرتی ہے اور انہیں عزت کی نظر سے دیکھتی ہے۔آپ لوگ بھی اگر کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس طرح لوگوں کی ہمددری حاصل کریں محض مذہبی مباحثے کچھ حقیقت نہیں رکھتے۔بے شک آج لوگ لڑائی جھگڑے پسند کرتے ہیں اس لئے مباحثوں کی قدر کرتے ہیں مگر کل ایسا نہیں ہوگا۔آج کل پادری آدھ گھنٹہ لیکچر دے آتا ہے جو پانچ سو یا آٹھ سوتنخواہ لیتا ہے تو کوئی اسے یہ نہیں کہتا ہے کہ حرام خور ہے لیکن ایک مولوی جو پانچ وقت نماز پڑھائے ، مردے نہلائے اور اور کام جو کمین کرتے ہیں کرے تو بھی یہی کہتے ہیں حرام خور ہے کچھ نہیں کرتا۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ کہ پادریوں کے کام کو تمدنی طور پر مفید سمجھا جاتا ہے اس لئے ان کو کوئی نکما نہیں کہتا۔لیکن مولوی چونکہ تمدنی لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتے اس لئے ان کو نکما سمجھا جاتا ہے۔