حیات شمس — Page 136
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس دمشق کے بارہ میں حضرت اقدس کے الہامات بلاء دمشق ،سرک سری، ایک اور بلاء بر پا ہوئی 136 تذکرہ مجموعہ الہامات ، بار چہارم ،2004ء صفحہ 602-603] (حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر) قانون قدرت کی ہر دفعہ پر غور کر کے دیکھنے اور کائنات کے اندر روزانہ وقوع میں ہونے والے تغیرات پر نظر غائر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بر بادی دونوں پہلو بہ پہلو قضاء وقدر کے منشاء کے مطابق نظام عالم کو قائم وارتقاء کے ساتھ خدا کے مقررہ وقت قائم رکھنے میں ممدد معاون ہیں۔پرانی عمارت کو گرایا جاتا ہے تا کہ اس کی جگہ نئی اور زیادہ خوبصورت و موزوں عمارت بنائے۔دھات کو آگ میں ڈالا جاتا ہے تاگل کر جل کر صاف ہو جائے اور برباد ہو کر وہ عزت حاصل کر لے۔ایک بالی یا انگشتری کو کسی کان یا انگلی کی زینت بن کر خوش ہے۔گیہوں پیس کر اور انگور دبایا جا کر روٹی اور سرکہ بنتے ہیں۔غرض بر بادی خواہ سرزنش کیلئے ہو یا کسی اور مقصد کیلئے دراصل آبادی ہے اور رحمتی وسعت کہنے والے رحیم خدا کی رحمت کا ایک طرز ہے۔شہر دمشق ملک شام کا سیاسی مرکز مسیحی و اسلامی روایات گذشتہ کی یاد جس سے پولوس اور مسیحیت کی اشاعت کا گہرا تعلق ہے اور جو بنوامیہ کا شاندار دارالخلافہ تھا۔وہ دمشق ہاں وہی شہر دمشق توپوں کی رات دن متواتر گولہ باری کا شکار ہو چکا ہے۔اس کا تاریخی بازار اور اس کی تاریخی مساجد اور ان کے بلند منارے جن پر پیشگوئیوں کے الفاظ سے محبت رکھنے والے لوگ مسیح ناصری کے منتظر تھے،مسمارو برباد ہو چکے ہیں اور ہزار ہا مخلوق خدا اس شہر میں ضائع ہوئی ہیں۔اس پر بلاء دمشق نا گہانی بلا ہو کر آئی ہے اور تازہ خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً مقدر ہے کہ رپورٹر ہم کو بدیر یا زود اطلاع دے کہ دمشق پر حملہ ہوا اور ایک اور بلا بر پا ہوئی“ ہے۔اس بربادی میں کیا راز ہے اور کونسی آبادی مقدر ہے اسے زمانہ بتلائے گا۔ہم تو اسقدر جانتے ہیں کہ یہ بربادی اور عذاب کسی آبادی اور اصلاح کا پیش خیمہ ہیں اور یقیناً اس میں علم الہی کے اندر سیح موعود علیہ السلام کے سلسلہ کیلئے کوئی جمہوری و برتری اور اسلام کیلئے خیر کی خبر ہے۔اللہ تعالیٰ نے ” بلاء دمشق کی خبر دیکر فرمایا ہے۔اے