حیات شمس — Page 137
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 137 پیارے احمد تیرا بھید میرا بھید ہے۔یہ راز و نیاز کی باتیں اللہ ورسول کا کلام ، یہ عاشق و معشوق کا ایک دوسرے کے ستر سے واقفیت جتانا اس امر پر دال ہے کہ لوح محفوظ پر دمشق کے مشرق سے بر پا ہونے والے مسیح کیلئے فتنہ دجال کے پیدا ہونے کی اصل جگہ یعنی شہر دمشق کی بربادی کی نسبت کچھ کامیابیوں کے نقوش لکھے گئے ہیں۔دمشق پر اتمام حجت خدا تعالی کی سنت ہے کہ کسی قریہ کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتا مگر قبل از عذاب تنبیہ کر لیتا ہے جیسا کہ فرمایا۔مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتى نَبْعَثَ رَسُولاً (بنی اسرائیل : 16)۔چنانچہ ملاحظہ ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ ثانی ( رضی اللہ عنہ ) کا مع ایک جماعت مومنین 1924ء میں دمشق میں نزول ہوتا ہے۔آپ پیغام حق پہنچاتے ہیں۔دمشق کے نئے یزیدی مخالفت کرتے ہیں اور حق کی طرف توجہ کرنے والوں کو روکنا چاہتے ہیں۔بعض احمدیہ تبلیغی ٹریکٹ تلف کئے جاتے ہیں۔اس پر ایک عرصہ گذر جاتا ہے۔دمشق میں حضرت مسیح کے منارہ کے قریب نازل ہونے کے ایک سال بعد احمد یہ وفد تبلیغ دمشق میں پہنچ جاتا ہے۔سید زین العابدین دوبارہ یزید کے شہر میں وارد ہوتے ہیں۔پھر ان کے ساتھ ہی جلال دین کا ظہور ہوتا ہے۔اخبارات میں سلسلہ احمدیہ کا چرچا ہوتا ہے۔ملاں مخالفت کرتے ہیں، مبلغین کو قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، انہیں دجال کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ان کے اخراج کی کوشش کی جاتی ہے کہ یکا یک آسمان سے آگ برستی اور تنبیہہ کے بعد عذاب آتا اور عراق کی کربلا کا نظارہ تاریخ دنیا اعادہ کر کے اب کی مرتبہ ایک رنگ میں دمشق کے اندر دکھاتی ہے۔حضرت امام حسین کی ذریت سید زین العابدین کو رویا میں دمشق کی تباہی جس طرح قبل از وقت دکھائی گئی وہ مومنین کے ایمان کو تازہ کرے گی۔سید صاحب اپنے 15 اکتوبر 1925 ء کے خط میں لکھتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا تھا شہر کے ارد گرد آگ لگی ہوئی ہے اور پھر دیکھا کہ شہر میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے اور ہم پر لوگ قتل کا وار کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے اور ان کے درمیان کوئی حائل ہورہا ہے جو انہیں پکڑے ہوئے ہے۔اس افراتفری میں بعض سیاسی انقلابات ہوتے