حیات شمس — Page 135
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 135 اس جنگ کے جوفرانسیسیوں کے درمیان ہو رہی ہے۔دمشق کے اردگرد کے بہت سے گاؤں کو تباہ کر دیا گیا ہے اور تمام اہل دمشق متحیر و سرگرداں ہیں۔اس کا ایک بہت بڑا حصہ تو پوں اور ہوائی جہازوں کے ذریعہ گولے پھینک پھینک کر خاک سیاہ کر دیا گیا۔سینکڑوں مقتول زمین پر پڑے ہیں۔کوئی اٹھانیوالا نہیں ہے۔کوئی دفنانے والا نہیں ہے۔بیچاروں کی شکلیں تبدیل ہو گئی ہیں۔بعض نظارے نہایت مہیب اور بدن پرلزرہ پیدا کرنے والے ہیں۔کوئی دردمند انسان نہیں ہے جو ان مردوں کو دیکھ کر جن میں بعض کو کتے کھا رہے ہیں، آنسو نہ گرائے۔وہ راتیں کس مصیبت سے گزریں جبکہ اوپر سے گولے برس رہے ہیں اور معصوم بچے اور عورتیں اور مرد چیچنیں مار مار کر گھروں سے باہر بھاگ رہے ہیں۔دوسرا الہام : يا ايها الناس اتقواربكم ان زلزلة الساعة شئى عظيم - يوم تذهل كل مرضعة عما ارضعت وتضع كل ذات حمل حملها۔وترى الناس سكارى وماهم بسكارى ولكن عذاب الله شدید بھی پورے طور پر صادق آرہا ہے۔اس مصیبت سے بعض عورتیں حاملہ تھیں اور ان کا حمل بھی گر گیا تھا اور دودھ پلانے والیاں اپنے بچوں کو دودھ پلانا بھی بھول گئی تھیں۔مثلا ہمارے ایک بھائی نے اپنی چشم دید واقعہ سنایا کہ ایک خاندان ایک جگہ بیٹھا ہو ا تھا کہ اوپر سے ایک گولہ آکر گرا۔ایک عورت اپنے بچے کو چھاتی سے لگائے دودھ پلا رہی تھی گولہ اس کے سر پر آکر لگا اور وہ وہیں پر جان دے بیٹھی اور باقی خاندان کے مرد بھی مر گئے فقط وہ بچہ باقی رہ گیا۔پس اس مصیبت کو دیکھ کر ہر ایک شخص اس کو بلائے دمشق قرار دیتا ہے۔جس سے پوچھو وہ یہ کہتا ہے بلاء وای بلاء یعنی نہایت سخت ہے۔ایسی مصیبت کبھی دمشق پر نہ آئی تھی اور اخباروں نے یہ عنوان رکھا تھا کہ مثلاً اخبار ” احرار‘ نے نكبة دمشق رکھ کر حالات ذکر کئے ہیں۔” نكبة دمشق بعینہ بلاء دمشق کا مصیبت ترجمہ ہے۔یہ مقدر تھا کہ دمشق پر یہ بلا نہ نازل ہو جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ اور آپ کے خدام وہاں پر پہنچ کر آپ کے دعویٰ کو شہرت نہ دے لیتے۔پس جب دعوئی کا اعلان ہو چکا تو اس کے متعلق جو الہام تھا وہ بھی پورا ہو گیا اور ہو سکتا ہے کہ اور بھی کئی رنگ میں اس کا ظہور ہو جس کو ہم ابھی تک نہیں جانتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام اپنے اندر کئی پہلو رکھتا ہے اور مقاصد رکھتا ہے۔الفضل قادیان 2 فروری 1926ء)