حیات شمس — Page 134
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 134 طور پر بیان کیا۔اس مکالمہ کو جو بہت طویل ہے ایڈیٹر صاحب مذکور نے اپنے اخبار میں شائع کر دیا اور علماء کرام کو دعوت دی ہے کہ ان دلائل پر جو احمدی مبلغین نے دیئے ہیں غور و فکر کریں۔یہ مکالمہ عربی میں ہوا جس کا ترجمہ باقساط الفضل میں اس لئے شائع کیا جائے گا کہ ناظرین کرام معلوم کر سکیں کہ احمدی دلائل کے مقابلہ میں وہ لوگ جو عربی زبان کے اہل ہیں اور جنہیں اسلام کے متعلق ساری دنیا سے زیادہ علم ہو نی کا دعویٰ ہے کس طرح مہر بہ لب اور دم بخود ہو جاتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس ملک کے لوگ کس طرح کے اعتراضات کرتے ہیں اور کن اصطلاحات کو پیش کرتے ہیں۔چونکہ یہ اہل زبان سے عربی میں پہلا مکالمہ ہے جو اس طرح چھپ کر شائع ہوا اس لئے امید ہے احباب اسے دلچسپی سے پڑھیں گے۔چنانچہ اخبار نے لکھا: جماعت احمد یہ ہندوستان کے صوبہ پنچاب کا ایک علمی اسلامی اور تبلیغی گروہ ہے جس کی بنیاد احمد مرحوم قادیانی نے رکھی ہے۔جن کا دعوی ہے کہ مجھے بذریعہ وحی بتایا گیا ہے کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور میں وہی مسیح موعود ہوں جس کے نزول کا ذکر احادیث میں موجود ہے جس کی غرض و غایت تبلیغ دین اسلامی ہے اور اس طریق پر آپ کے دعوی کو پھیلانا ہے۔ہم نے ایک سے گذشتہ مرتبہ میں سید زین العابدین کے آنے کی خبر دی تھی جو کہ اس جماعت کے ایک رکن ہیں۔ہم نے ان سے ملاقات کی اور ہمارے درمیان مندرجہ ذیل بحث ہوئی جس کے متعلق یہ شرط تھی کہ ہم اسے شائع کریں گے چنانچہ ہم اپنے وعدے کے موافق اسے شائع کرتے اور اپنے علماء کرام کو اس بات کا موقع دیتے ہیں کہ وہ اس سے آگاہ ہوں اور جو دلائل ان مسائل کی نفی یا اثبات کے متعلق ان کے پاس موجود ہیں وہ بیان کریں۔یہی التجاء ہم قاری الحدیث سے کرتے ہیں۔دیکھیں الفضل قادیان 18 اگست 1925ء) نوٹ: اس سے آگے وہ تفصیلی بحث سوال و جواب کی صورت میں دی گئی ہے۔اس کی تفصیل الفضل قادیان محولہ بالا سے ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔مؤلف۔بلائے دمشق ( حضرت مولانا جلال الدین شمس) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں سے ایک الہام میں ” بلائے دمشق بھی ہے کہ دمشق پر ایک بڑی مصیبت آئیگی سو آج ہم اس کا نظارہ دیکھ رہے ہیں۔آج کل یہ نہایت ہی مصیبت زدہ ہیں بوجہ