حیات شمس — Page 133
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 133 مخالفت یکدم چمک اٹھی۔فاضل جلال الدین صاحب شمس پر 23 دسمبر 1927ء کو قاتلانہ حملہ ہوا۔جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے مگر خدا تعالیٰ نے انہیں بچالیا اور 11 مارچ 1928ء کو حکومت نے انہیں حکم دیا کہ تین دن کے اندر شام کی سرحد سے نکل جائیں۔انہوں نے تعمیل کی اور جانے سے قبل 13 مارچ 1928ء کے دن منیر الحصنی صاحب کو دارالتبلیغ کا چارج دے دیا۔منیر لکھنی صاحب اپنے اخلاص وحمیت میں قابل رشک نمونہ ہیں۔یہ نوجوان کلیۃ سلطان صلاح الدین ایوبیہ کے سند یافتہ ہیں نیز جرمنی سے قانون کی ڈگری حاصل کی تھی۔اب جبکہ احمدیت کی جڑ لگ چکی تھی شمس صاحب کا اخراج کسی نقصان کا موجب نہیں ہوسکتا تھا بلکہ جیسا کہ بعد کے واقعات نے ثابت کیا ان کا اخراج اللہ تعالیٰ کی طرف سے سراسر رحمت کا سبب بنا۔حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح ثانی ایدہ اللہ تعلی بنصرہ العزیز کے ارشاد کے ماتحت شمس صاحب نے حیفا میں ایک احمد یہ دار التبلیغ قائم کیا۔غرض حکومت بھی مشیت الہی کے راستہ میں روک نہ بن سکی بلکہ جو تد بیر بھی اس نے اختیار کی وہ احمدیت کے پنپنے کا باعث بنی۔پہلے وہاں ایک مشن تھا اخراج کے بعد دو مشن ہو گئے۔یہ مشن کہاں تک قائم ہے۔اس سوال کا جواب رسالہ البشریٰ کی ان فہرستوں سے ملتا ہے جو اس میں ماہ بماہ احمدی مبائعین کے نام اور ان کے ماہواری چندے شائع ہوتے رہتے 66 ہیں۔ہمارے یہ عرب بھائی تبلیغ و اشاعت کے تمام مقامی اخراجات خود برداشت کرتے ہیں۔“ الفضل قادیان 18 مارچ1944ء) ( نوٹ : دمشق میں احمدیت کی ابتدائی تاریخ کے بارہ میں کسی قدر معلومات حضرت شیخ محمود احمد عرفانی کی کتاب ” مرکز احمدیت قادیان میں بھی دی گئی ہیں۔مؤلف۔) مباحثه دمشق (مدیر افضل قادیان) ہمارے مبلغین شام جناب زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین شمس مولوی فاضل کے شام پہنچنے پر دیگر علماء نے مکالمہ ومخاطبہ کیا۔وہاں دمشق کے ایک مشہور اخبار ” وادی بردی“ کے ایک ایڈیٹر صاحب نے بھی اہم مسائل پر طویل گفتگو کی اور اس شرط پر کی کہ اسے اخبار میں شائع کیا جائے گا۔احمدی مبلغین اور کیا چاہتے تھے انہوں نے شکریہ کے ساتھ منظور کر لیا اور جو کچھ ان سے پوچھا گیا اسے خوب واضح