حیات شمس — Page 127
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 127 اس کے بعد سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک مفصل تقریر فرمائی جس میں تبلیغ کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے ان مجاہدین کو ان کے کام کے متعلق ہدایات دیں۔27 جون کو قادیان سے ان مجاہدین کی روانگی تھی۔دونوں مدارس کے طلباء معہ اساتذہ اور بعض دوسرے اصحاب صبح سویرے ہی سڑک کے موڑ پر پہنچ گئے اور آٹھ بجے کے قریب سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ مع مجاہدین اور دیگر اصحاب روانہ ہوئے۔مقام الوداع پر پہنچ کر حضور نے تمام مجمع سمیت دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور اس کے بعد مجاہدین کے ساتھ معانقہ فرمایا۔چونکہ وقت تنگ تھا اور مجمع کثیر اس لئے سب احباب مصافحہ نہ کر سکے۔حضور سڑک پر کھڑے احباب کی دورویہ قطار میں سے مجاہدین کی طرف دیکھتے رہے اور جب ان کے ٹانگے روانہ ہو گئے تو حضور واپس تشریف لے آئے۔الوداع کے وقت مولوی جلال الدین صاحب بوجہ رقت بات بھی صاف طور پر نہ کر سکتے تھے۔احباب خاص طور پر دعا کریں۔دمشق کیلئے روانگی مولا نائٹس صاحب کی زبانی حضرت مولانا شمس صاحب سفر مشق کی بابت تحریر کرتے ہیں : الفضل قادیان 30 جون 1925 ، صفحہ 1) یکم جولائی 1925ء کو بمبئی سے ہمارا جہاز روانہ ہوا اور گیارہ جولائی کو سویز پہنچا اور جہاز میں بھی حضرت مسیح موعود کے دعاوی کے متعلق گفتگو ہوئی جن میں سے تین عرب مدنیہ منورہ کے رہنے والے تھے۔جناب سید زین العابدین شاہ صاحب نے بھی انہیں بعض مسائل کے متعلق سمجھایا اور میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب سے استفادہ کیا اور مواهب الرحمن سے ایک حصہ سنایا۔ان میں سے ایک عالم تھا۔وہ کہنے لگا کہ بہت عرصہ ہوا ہے احمد رضا بریلوی نے اس مدعی کے متعلق علماء مدینہ سے کفر کا فتویٰ طلب کیا تھا۔جو کچھ اس نے لکھا اس پر انہوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا مگر اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے خود مدعی کی کتب کا مطالعہ نہیں کیا آپ کو یہ کتابیں ضرور وہاں بھیجنی چاہئیں۔انہوں نے بہت اصرار کیا کہ یہ کتاب مجھے ضرور دے دیں مگر ہمارے پاس اس کا کوئی اور نسخہ نہ تھا آخر اسلامی اصول کی فلاسفی کے عربی ترجمہ کی ایک کاپی دے دی گئی اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھ سے خط و کتابت ضرور رکھیں۔