حیات شمس — Page 126
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 126 حضور کے عہد سعادت میں کئی عرب قادیان میں بھی دیار مہدی میں حاضر ہوئے جن میں بعض کا ذکر جماعتی اخبارات الحکم و بدر کی ڈائریوں میں محفوظ ہے اور بعض عرب احباب کا ذکر خیر سید نا حضرت اقدس نے اپنی تحریرات میں بھی فرمایا ہے جیسے مکرم الحاج محمد المغر بی ، سید عبدالحی عرب ، اور مکرم عبدالحی الحویزی۔1902ء میں حضرت حکیم نور الدین صاحب بھیروی نے عربی کتب نقل کرنے کی غرض سے حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری کو بلا د مصر یہ بھجوایا جہاں آپ نے تبلیغی خدمات بھی سرانجام دیں۔خلافت اولی کے آخری دور یعنی 1913ء میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شا صاحب اور شیخ عبد الرحمن صاحب مصری مصر میں بغرض تعلیم و تبشیر بھجوائے گئے۔اسی طرح خلافت ثانیہ میں 1922ء میں حضرت شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مصر میں بغرض تعلیم روانہ ہوئے۔جب حضرت مولانا شمس صاحب کا ملک شام کیلئے تقرر ہوا تو آپ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روانہ ہوئے جو 1913ء سے ان علاقوں میں خدمات کی توفیق پارہے تھے۔(نوٹ : عرب ممالک میں احمدیت کے آغاز کی مزید تاریخ کیلئے دیکھئے تاریخ احمدیت جلد چہارم مطبوعہ ہندوستان 2007ء) حضرت مولانا شمس صاحب کی بلا دعر بیہ کیلئے روانگی حضرت مولانا موصوف پہلی بار جون 1925ء میں مع حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ بغرض تبلیغ ملک شام تشریف لے گئے۔آپ کی روانگی اور الوداعی تقریب کے پر رقت نظاروں کے بارہ میں ادارہ الفضل قادیان نے ذیل کی رپورٹ شائع کی: جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس مولوی فاضل (کے) سفرشام پر روانہ ہونے کے سلسلہ میں 25 جون 1925ء کو خواتین ٹریننگ سکول نے دعوت دی جنہیں شاہ صاحب تعلیم عربی دیا کرتے تھے۔اسی دن رات کو مولوی جلال الدین شمس صاحب کے خاندان نے دعوت طعام دی۔26 جون بروز جمعہ عصر کے بعد طلباء مدرسہ احمد یہ و ہائی سکول نے بورڈنگ ہائی سکول کے ڈائننگ ہال میں دعوت چائے دی جس میں طلباء نے ایڈریس پیش کیا۔ان کے جواب میں دونوں احباب ( شاہ صاحب و شمس صاحب) نے تقریریں کیں۔