حیات شمس

by Other Authors

Page 128 of 748

حیات شمس — Page 128

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 128 بیت المقدس میں 13 جولائی کو ہم بیت المقدس پہنچے۔وہاں شاہ صاحب کے دوستوں اور شاگردوں سے ملاقات ہوئی اور پھر وہاں پر بڑے بڑے علماء اور مفتی سے وفات مسیح پر اور حضرت مسیح موعود کے دعاوی اور مسئله نبوت پر دیر تک گفتگو ہوئی۔وفات مسیح کو تو وہ جھٹ ماننے کے لئے تیار ہو گئے۔پھر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی قصیدہ مندرجہ ” آئینہ کمالات اسلام در مدح نبی سنایا جس کو سنکر وہ خوش ہوئے۔یہاں کے علماء اور ہندوستان کے علماء میں یہ فرق ہے کہ ہندی علماء جلد طیش میں آ جاتے ہیں اور اپنے خلاف بات سننا بھی گوار نہیں کرتے ہیں مگر یہاں کے علماء نے نہایت ہی تسلی اور اطمینان سے ہماری باتیں سنیں۔بیت المقدس سے 16 جولائی کو روانہ ہوئے اور نابلس پہنچے۔وہاں بھی چند علماء سے گفتگو ہوئی شاہ صاحب گفتگو کرتے تھے۔آپ نے انی متوفیک آیت پیش کی تو ایک مولوی صاحب کہنے لگے کہ اس کے معنے تو وفات کے نہیں ہیں تو میں نے تفسیر روح البیان نکال کر سامنے رکھ دی کہ لیجئے اس میں صاف لکھا ہے : انسی ممیتک حتف انفک لا قتلاً بایدیهم - وہ دیکھ کر سخت حیران ہوا۔اسی طرح شاہ صاحب نے اختلاف حلیتین کی حدیث پیش کی تو نابلسی جو ایک بہت بڑے عالم ہیں اور ان ہی کی ملاقات کے لیے ان کے مکان پر گئے تھے۔وہ کہنے لگے کہ ہم ایسی حدیثوں کو ردی میں پھینکتے ہیں۔شاہ صاحب نے کہا کہ بخاری میں ہے وہ کہنے لگے کہ بخاری میں نہیں ہے۔میں نے بخاری میں سے دونوں حدیثیں نکال کر دکھا دیں۔قنیطره اس کے بعد قنیطرہ پہنچے۔شام کا وقت قریب تھا۔وہاں کے لوگوں نے ٹھہر نے کے لیے مجبور کیا رات کو وہاں کے سلسلہ کے حالات جاننے کے بعد پیغام حق پہنچایا گیا۔قنیطرہ کے امام مسجد نے کہا مجھے صرف نبوت کے متعلق شک ہے۔شاہ صاحب نے نبوت کا مسئلہ سمجھایا۔کہنے لگے اگر نبوت سے یہ مراد ہے تو ایسا نبی ہو سکتا ہے۔18 جولائی 1925ء کو مشق پہنچے۔دودن سنترال ہوٹل میں ٹھہرے جہاں پچھلے سال حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ ٹھہرے تھے۔شاہ صاحب کے یہاں بھی شاگرد اور دوست موجود تھے وہ ملاقات کیلئے آئے ان سے سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوئی۔وزیر معارف سے ملاقات ہوئی۔لوگوں کے زیادہ تر خیالات