حیات شمس — Page 11
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 11 یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس خاندان کے لوگ پہلے سے ہی اہلحدیث خیال رکھتے تھے اور اہل حدیث فرقہ کے لوگ مسلمان فرقوں میں سے اچھے دیندار سمجھے جاتے ہیں اور ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہونے والے بہت سے وہ لوگ تھے جو اہل حدیث تھے۔ایک بڑا شرک جو حضرت مسیح ناصری کی حیات کے متعلق تھا وہ حضرت مسیح موعود کی جماعت میں شامل ہو کر وہ عقیدہ بھی ترک کر دیا۔اس طرح اس خاندان کو توفیق دی کہ خدا پرستوں کی جماعت میں شامل ہو گئے۔( جسر روایات صحابہ جلد نمبر 4) سید نا حضرت اقدس سے تعلقات کا آغاز اس خاندان کی قادیان میں آمد کی ایک اہم وجہ حضرت میاں جان محمد صاحب کشمیری ( جانو کشمیری ) تھے جو مسجد اقصی قادیان کے امام الصلوۃ تھے اور جنہیں حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب نے امام مقررفرمایا تھا۔اس سے یہ بات بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ اس خاندان کے قادیان کے معزز مغلیہ فارسی الاصل خاندان سے دیرینہ اور قدیمی تعلقات تھے۔حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی سید نا حضرت اقدس سے اپنے تعلقات کی بابت بیان کرتے ہیں: ” میری آمد و رفت قادیان میں کیوں ہوئی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ( قادیان میں ) میرے نانکے ( ننھیال ) تھے۔اس واسطے میری آمد و رفت زمانہ لڑکپن سے شروع تھی۔اُس وقت میری عمر قریباً شاید باراں یا تیراں سال کی ہوگی۔اس وقت قادیان کی حالت نہایت بے رونق بستی تھی اور بازار خراب ہوتے تھے اور کثرت سے قمار بازی ہوتی تھی۔گویا ہر ایک کا ایک پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ہنسی ٹھٹھا سے بات چیت ہوتی تھی۔کوئی بھی خدا کو یاد نہیں کرتا تھا مگر ایک میاں جان محمد مرحوم مسجد اقصی کے امام تھے۔وہ ایک غازی تھے۔وہ حضرت صاحب کے پاس آتے جاتے تھے۔وہ میرے ماموں تھے۔(حضرت میاں جان محمد صاحب مرحوم یکی از اصحاب تین سو تیرہ۔مرتب ) کچھ ان سے حضرت صاحب کی باتیں سنیں۔کچھ عام طور پر لوگوں سے سنیں کہ مرزا صاحب اندر ہی اندر رہتے ہیں۔اس سبب سے میں نے حضرت صاحب کے مکان پر آنا جانا شروع کیا۔بے شک آپ ایک کوٹھڑی میں رہتے تھے جو بیت الفکر کے نام پر کتابوں میں درج ہے۔