حیات شمس

by Other Authors

Page 348 of 748

حیات شمس — Page 348

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 332 میں نے بتایا کہ اول تو یہ فیصلہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا دوسرے بائیبل میں پیشگوئیاں تھیں کہ وہ اپنے بد اعمال کی پاداش میں قتل ہوں گے اور ان کے مال و اسباب چھین لئے جائیں گے۔تیسرے یہ فیصلہ کوئی ظالمانہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ بنو قریظہ کی مسلمہ الہامی کتاب توریت کے مطابق تھا۔چنانچه استثناء باب 20 آیت 11 تا 14 میں یہ لکھا ہے کہ اگر شہر کے لوگ تیرے خلاف جنگ کریں تو تو ان کے شہر کا محاصرہ کرے اور جب خدا اسے تیرے قبضے میں دے دے تو تو ہر مرد کو تلوار سے قتل کر اور بچوں اور عورتوں اور مویشیوں کو اپنے قبضہ میں لے لے۔پس سعد بن معاذ کا فیصلہ یہود کی مسلمہ خدائی کتاب کے موافق تھا اور قابل اعتراض نہ تھا۔آسمانی اور دنیاوی بادشاہت سے محرومیت رض یہود نے پہلے مسیح علیہ السلام کے وقت میں عہد کو توڑا اور خدا تعالیٰ کی بات سننے سے انکار کیا جس پر جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے مسیح نے فرمایا کہ اب تم سے آسمانی بادشاہت چھین لی جائے گی اور ایک دوسری قوم کو دے دی جائے گی۔چنانچہ نبوت کی نعمت ان سے چھین لی گئی۔اس کا نا قابل تردید ثبوت یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام سے پہلے تو کثرت سے بنی اسرائیل میں سے انبیاء مبعوث ہوئے لیکن مسیح علیہ السلام کے بعد ان میں سے صادق نبیوں کا آنا بند ہو گیا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں انہیں عہد یاد دلایا گیا اور انہیں سمجھایا گیا کہ اگر وہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو سنیں گے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مان لیں گے تو پھر دوبارہ وہ کھوئی ہوئی نعمتوں کو پالیں گے اور دونوں قسم کی نعمتوں سے متمتع ہوں گے لیکن انہوں نے بجائے ایمان لانے کے آپ کے قتل کی تجویزیں کیں۔تب اللہ تعالیٰ نے بطور سزا انہیں نہ صرف آسمانی بادشاہت سے بلکہ دنیاوی بادشاہت سے بھی محروم کر دیا۔چنانچہ اس وقت سے لے کر آج تک یہودیوں کی کسی ملک میں حکومت قائم نہ ہوئی۔قرآن مجید میں ان کے متعلق جو پیشگوئیاں درج ہیں وہ بیان کیں۔پھر گذشتہ صدیوں میں عیسائی حکومتوں نے جو یہودیوں سے سلوک کیا اس کا ذکر کیا۔فیلپ آگسٹ نے ان کے تمام اموال پر قبضہ کر کے اور ان کے قرضے جولوگوں کے ذمہ تھے سب ضبط کر کے انہیں فرانس سے نکال دیا۔پھر 1306ء میں فیلپ دی فیئر نے بھی وحشیانہ سلوک کے ساتھ انہیں پھر فرانس سے نکال دیا۔بعض مقامات پر یہودی عورتوں نے غصہ سے دیوانگی کے جوش میں اپنے بچوں کو بلند جگہوں سے عیسائیوں کے اثر دہام پر پھینک دیا۔Chinon میں ایک خندق کھدوائی گئی اور اس