حیات شمس — Page 347
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس پر اچھا اثر ہوا۔بعض ممبروں کے پتے لئے گئے جنہیں کتا ہیں مطالعہ کیلئے بھیجی گئی ہیں۔ریورنڈ ولیم ویٹ کے مکان پر 331 ریورنڈ ولیم ویٹ جو ایک سال تک فلسطین بطور مشنری جانے والے ہیں میری دعوت پر عید کے موقعہ پر تشریف لائے تھے۔ان سے اس وقت گفتگو بھی ہوئی تھی۔گزشتہ ہفتہ انہوں نے مجھے اپنے مکان پر دعوت چائے دی اور ایک مشنری عورت مسز ہنری کو بھی بلایا جو عربی ممالک میں چھ سات سال تک کام کر چکی ہے۔دوران گفتگو میں اس نے ذکر کیا کہ وہ کہا بیر بھی گئی تھیں۔میں نے اسے بتایا کہ وہاں ہماری جماعت موجود ہے۔پھر اس نے یہ بھی کہا کہ جب وہ دمشق گئی تھی اس وقت پادری الفریڈ نیلسن سے کسی کا تحریری مباحثہ ہو ا تھا۔میں نے کہا وہ مباحثہ مجھ سے ہوا تھا اور اب وہ کتابی صورت میں شائع ہو چکا ہوا ہے۔یروشلم کی ایک عرب مسلمان لڑکی بھی مدعو تھی جس نے مسجد د یکھنے کیلئے آنے کا وعدہ کیا۔ایام زیر رپورٹ میں روٹری کلب جاتا رہا اور لنگٹن اور سڈ کپ وغیرہ نومسلموں کے گھروں پر ان سے ملنے کیلئے گیا۔سر فیروز خان صاحب نون ہائی کمشنر فار انڈیا نے سردار بہا در موہن سنگھ صاحب کو الوداعی پارٹی دی تھی جس میں شامل ہوا۔وہاں بہت سے ہندوستانی اور انگریزوں سے ملاقات ہوئی۔خاکسار جلال الدین شمس (الفضل قادیان 16 اپریل1939ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہود یوئیل ایڈلٹ سکول میں مندرجہ بالا موضوع پر میں نے پرچہ پڑھا جس میں پہلے تو بائیل سے اس عہد کا ذکر کیا جو بنی اسرائیل نے خدا سے کیا تھا اور خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے کیا تھا۔بنی اسرائیل نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ خدا کی باتوں کو سنیں گے۔پھر مضمون کو دو حصوں میں تقسیم کر کے پہلے ان پیشگوئیوں کا ذکر کیا جو پرانے عہد نامہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق پائی جاتی ہیں۔پھر پولیٹیکل تعلقات کا ذکر کیا اور بتایا کہ مدینہ کے ارد گرد رہنے والے یہودی قبائل کو کیوں جلاوطن کیا گیا۔نیز بنی قریظہ کے جوان مردوں کو قتل کرانے اور بچوں اور عورتوں کو غلام بنانے کے متعلق جو یورپین مورخین نے اعتراض کیا ہے اس کا جواب دیا۔واشنگٹن ارونگ لائف آف محمد ( ع ) میں اس واقعہ کا ذکر کر کے لکھتا۔ہے: The massacre۔۔۔is pronounced one of the darkest pages of his history۔[Mahomet and His Successors by Washigton Irving, G۔P۔Putnam, New York, 1860, P۔211]