حیات شمس

by Other Authors

Page 330 of 748

حیات شمس — Page 330

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 314 اور دوسرے ممالک اور اقوام کے متعلق ان کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے نیز غیرملکی زبان بولنے کی مشق کا بھی موقع مل جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک نہایت مفید طریق ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے سیر فی الارض پر بار بار زور دیا ہے نیز فرمایا ہے کہ مختلف اقوام بنانے کی غرض یہ ہے کہ تا وہ آپس میں تعارف پیدا کریں اور ایک دوسرے کیلئے مفید وجود بنیں اس لئے میرے نزدیک محکمہ تعلیم کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے اور موسمی رخصتوں میں ایک صوبہ کی ہائی کلاسز کے ہوشیار طلباء کو دوسرے صوبہ میں لے جانے کا انتظام کرنا چاہیے۔اس طرح ایک صوبہ کے طالب علم دوسرے صوبہ کے طالب علموں سے دوستانہ تعلقات پیدا کرنے کے علاوہ اس صوبہ کے حالات سے بھی واقف ہو جائیں گے۔چند سالوں سے لندن آنے والے جرمن طلباء ہماری مسجد دیکھنے کیلئے بھی آتے ہیں۔ہر سال نئے طالب علم ہوتے ہیں لیکن اس سال جرمنی کے طلباء کے علاوہ بعض فرانس اور سویڈن کے طالب علم بھی تھے۔تعداد تقریباً ستر تھی۔ان کیلئے احاطہ مسجد میں گارڈن پارٹی کا انتظام کیا گیا۔سب سے پہلے جناب در دصاحب نے مختصری تقریر کی جس میں طالب علموں کو ویلکم کہا اور مسجد کی تاریخ اور جماعت احمد یہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے متعلق اختصار کے ساتھ بیان کیا۔ان کے بعد میں نے عربی زبان میں اور حضرت مولوی شیر علی صاحب نے اردو زبان میں ویلکم کہا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض الہامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اصلی میزبان تو جماعت احمدیہ کے بانی ہیں جن کے طفیل ہم یہاں آئے اور مسجد بنائی اس لئے میں ان کی طرف سے بھی آپ کو ویلکم کہتا ہوں۔دونوں کا ترجمہ انگریزی میں جناب درد صاحب نے کیا اور ڈاکٹر سلیمان صاحب نے افریقن زبان میں اور مسٹر عبدالجبار صاحب نے بنگلہ میں ویلکم کہا۔پھر جرمن بوائز کے انچارج نے مختصر تقریر میں شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آج کا دن دوسرے تمام دنوں سے جو ہم نے لندن میں گزارے زیادہ موجب مسرت اور خوشکن ہے۔آخر میں مسٹر بیکر اور مسٹر کنگ نے جن کے انتظام کے ماتحت وہ مسجد میں آئے امام مسجد لندن اور تمام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا۔خاتمہ پر تمام طالب علموں کو ایک ایک کاپی احمد یہ البم کی دی گئی اور بعض نے مسجد دیکھ کر بعض سوالات بھی دریافت کئے جن کے مختلف دوستوں نے جوابات دیئے۔(الفضل قادیان 3 ستمبر 1938 ء)