حیات شمس — Page 329
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 313 کے بعض تمدنی مسائل اور الہام و وحی کے اجراء اور سلسلہ کے متعلق گفتگو کی اور ان سے بعض سوالات بھی دریافت کئے۔اس نے کہا میں ان تمام باتوں کو صحی مانتا ہوں اور مجھے اسلام قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے۔اس نے بیعت فارم پُر کر دیا۔۴۔کل مسٹر فرید الیسکند رترکی کے مسلمان مسجد دیکھنے کیلئے آئے۔وہ اصل میں دیار بکر کے ہیں مگر طرسوس کے امریکن کالج میں تاریخ اور جغرافیہ کے ٹیچر ہیں۔سلسلہ کے متعلق انہیں کتا بیں دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال تو میں ایک ماہ کیلئے یہاں ٹھہروں گا لیکن آئندہ سال تقریباً تین ماہ کیلئے آؤں گا پھر آپ سے آکر ملا کروں گا۔الفضل قادیان 30 اگست 1938ء) مسجد فضل لنڈن میں جرمنی، فرانس اور سویڈن کے طلبا کا ورود (حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس) اس میں شک نہیں کہ اہل یورپ نے اس زمانہ میں دنیوی علوم میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔نہ صرف سائنس بلکہ تاریخ، جغرافیہ اور مختلف ممالک کے حالات اور مختلف اقوام کی طرز رہائش اور تمدن کے متعلق ان کی معلومات نہایت وسیع ہیں۔جب وہ کوئی کام شروع کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے مفید اور مصر پہلوؤں پر غور کرتے ہیں پھر کام شروع کرنے کے بعد اس کے اثرات اور نتائج پر غور کرتے رہتے ہیں اور کام کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کیلئے وہ ان وجوہات کے ازالہ کی کوشش کرتے ہیں جو اس کام کے کماحقہ مفید ہونے میں روک واقع ہوں۔اس وقت میں ان کی ایک مفید بات کا جو مدارس کے طلباء سے متعلق رکھتی ہے ذکر کرتا ہوں۔جب موسمی رخصتیں ہوتی ہیں تو ایک ملک کے طلبا ایک انتظام کے ماتحت چند دنوں کیلئے دوسرے ملک میں چلے جاتے ہیں اور وہاں کے سکولوں کے منتظمین ان مہمان طلباء کیلئے ان کے ایام قیام کے مطابق ایک پروگرام جوئی پارٹیوں اور معزز اشخاص سے ملاقاتوں ، کھیلوں ، اور قابل دید عمارتوں وغیرہ پر مشتمل ہوتا ہے تیار کر چھوڑتے ہیں۔مثلاً جرمنی کے جو طالب علم لندن آتے ہیں یہاں کے سکولوں کے منتظمین ان کیلئے ایک پروگرام بنا چھوڑتے ہیں جس کے مطابق وہ اپنے اوقات لندن میں گزارتے ہیں۔اسی طرح لندن کے سکولوں کے طالب علم چند روز کیلئے جرمنی چلے جاتے ہیں۔اس تبادلہ کے ساتھ جہاں ایک قوم کے نوجوانوں کے دوسری قوم کے نوجوانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پیدا ہوتے ہیں وہاں انہیں دوسری اقوام کی طرز رہائش اور تمدن اور اخلاق کے مطالعہ کا بھی موقع ملتا ہے