حیات شمس — Page 328
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 312 اس لحاظ سے یہاں کے حالات کے متعلق صحیح مشورہ دے سکیں گے اور خود عملی طور پر جماعت کے کاموں میں حصہ لے کر سلسلہ کیلئے ایک مفید وجود ثابت ہوں گے اور آئندہ جن ذمہ داریوں کا بوجھ صاحبزادہ صاحب موصوف پر پڑنے والا ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ مجھے اس وقت افسوس نہیں بلکہ خوشی ہے کہ آپ اس جگہ جا رہے ہیں جو ہمیں سب جگہوں سے پیاری ہے۔آپ کے بعد مولانا در دصاحب نے عمدہ پیرایہ میں اپنے ذاتی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب موصوف کی انگلستان میں موجودگی ہمارے لئے تسکین کا باعث تھی۔آپ وقتا فوقتاً اپنے قیمتی مشوروں سے مستفید فرماتے رہے۔آپ کی ملاقات اور گفتگو راحت اور تسلی کا موجب ہوتی تھی اور آخر میں دعا پر یہ مبارک تقریب ختم ہوئی۔خاکسار جلال الدین شمس از لندن۔ہائیڈ پارک میں مزید لیکچرز حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں۔(الفضل قادیان 7 اگست 1938ء) اس ہفتہ دو دفعہ ہائیڈ پارک میں لیکچر ہوئے۔گزشتہ جمعہ کے روز میں نے حضرت مسیح کے صلیب پر نہ مرنے اور کشمیر میں طبعی وفات پانے کے متعلق بیان کیا۔بعض عیسائیوں نے خوب شور مچایا اور سوالات کئے۔ایک نے کہا بے شک صلیب پر مرنے کیلئے وہ وقت کافی نہ تھا لیکن سپاہی کے نیزہ لگانے سے جو زخم ہوا اسی سے موت واقع ہوئی۔میں نے کہا انجیل کہتی ہے کہ وہ پہلے مر چکا تھا لیکن اس کے بعد خون کے نکلنے کو یقینی کر کے بیان کیا گیا ہے۔سائل بھی انجیل کے موت کے متعلق بیان کو غلط قرار دیتا ہے لیکن انجیل خون نکلنے کے بعد اس کی وفات کا ذکر نہیں کرتی۔اس شخص کو دوسرے عیسائیوں نے کہا تم چپ رہو تمہیں انجیل کا پتہ نہیں ہے۔ایک اور شخص سے جو اپنے آپ کو عربی کا عالم کہتا تھا، گفتگو کی گئی۔پون گھنٹہ تک سوال وجواب ہوتے رہے۔اس کے بعد میر عبدالسلام صاحب نے تقریر کی اور سوال و جواب ہوتے رہے۔۲۔گزشتہ ہفتہ ایک معزز خاندان کے افراد کو دار التبلیغ میں چائے پر بلایا گیا۔ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔تقریباً دو گھنٹہ تک وہ یہاں ٹھہرے۔۔ایک احمدی عورت نے فون کیا کہ ایک انگریز مسلمان ہونا چاہتا ہے۔چنانچہ وہ جمعرات کو اسے ساتھ لے کر آئیں۔میں نے ان کو اسلام کے اصول وارکان بتائے۔پھر مولا نا در دصاحب نے اسلام