حیات شمس

by Other Authors

Page xxvi of 748

حیات شمس — Page xxvi

XXV وفات کی اطلاع ملی اسی روز ایک عرب عالم سے مناظرہ کیلئے تیار ہو گئے۔باوجود احباب جماعت کی تجویز کے آپ نے پروگرام کو ملتوی نہیں کیا اور اپنے فرائض کو ذاتی وجوہات کی وجہ سے نہیں چھوڑا۔اس کی تفصیل کتاب ہذا میں موجود ہے۔والد ماجد کی بعض سعادتیں اب میں اپنے والد صاحب کے حالات زندگی کی طرف آتا ہوں۔آپ طبیعت کے بہت سادہ تھے۔ہر کسی سے ملتے تو مسکراہٹ کے ساتھ۔میں نے کبھی ان کے مونہہ سے اپنی بڑائی کی بات نہیں سنی۔ان کو جماعت میں ایک خاص مقام حاصل ہوا لیکن اس کا اثر آپ کی شخصیت پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوا۔یہ ایسا مقام ہے کہ جو ابھی تک تاریخ احمدیت میں کسی کو حاصل نہیں ہوا مستقبل کے بارہ میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ، وہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی موجودگی میں اور ان کی اجازت اور حکم کے ماتحت پانچوں نمازیں اور جمعہ پڑھانا جو خود خلیفہ وقت نے پڑھانا تھا۔یہ ایک خاص اعزاز تھا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فر مایا اور پھر یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔وہ لوگ جو میری عمر کے ہیں انہوں نے والد صاحب کو ہی جمعہ اور نماز میں مسجد مبارک میں پڑھاتے دیکھا ہے۔اگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ بیمارنہ ہوتے تو آپ ہی نمازیں پڑھاتے لیکن انہوں نے شفقت کے ساتھ یہ کام والد صاحب کے سپرد کیا۔سوائے اس کے کہ وہ ربوہ سے باہر جماعت کے کام کیلئے گئے ہوتے ورنہ حضور ہمارے والد صاحب کو ہی ارشاد فرماتے۔احباب جماعت کے دلوں میں ان کیلئے کافی عقیدت و محبت تھی لیکن میں نے خاص طور پر جلسہ سالانہ پر ایک خاص بات نوٹ کی تھی اور وہ یہ کہ آپ اپنی تعریف سننا پسند نہیں کرتے تھے اور آپ کے چہرہ پر عجیب سی گھبراہٹ کے آثار آجاتے اور میں نے یہ خاص طور پر دیکھا کہ آپ فورا موضوع کو بدلنے کی کوشش کرتے کہ یہ مرحلہ ختم ہو۔دود نیاؤں کے باسی ر آپ دو دنیاؤں سے تعلق رکھتے تھے۔اس کو میں دو پہلوؤں سے بیان کرسکتا ہوں۔ہمارے ایک احمدی نوجوان دوست نے میرا تعارف ایک غیر احمدی صاحب سے کراچی میں کروایا۔انہوں نے کہا کہ میہ اُس والد کے بیٹے ہیں جو اس دنیا کے نہیں تھے۔میں نے جب بھی انہیں دیکھا ان کے چہرہ پر اگلی دنیا کی