حیات شمس

by Other Authors

Page xxvii of 748

حیات شمس — Page xxvii

xxvi روشنی دیکھی وہ فرشتہ تھے اور میں اس کا ذاتی گواہ ہوں۔دوسرے پہلو سے وہ مشرق میں بطور مبلغ شام، فلسطین اور مصر میں تبلیغ کرتے رہے اور پھر اس کے برعکس مغربی طاقتوں کے مرکز یعنی لندن میں تعین کئے گئے جہاں عربی کی بجائے انگریزی سیکھنی پڑی اور پھر خدا تعالیٰ نے یہ بھی توفیق دی کہ نہ صرف انگریزی میں زبانی تبلیغ کی بلکہ ایک ایسی کتاب بھی لکھی (? Where Did Jesus Die ) که تقریباً چالیس سال کے عرصہ تک اور کوئی کتاب اس طرح کی ہمارے لٹریچر میں کسی نے نہیں لکھی اور جس کا بہت سی زبانوں میں ترجمہ بھی کیا گیا۔اس پہلو سے وہ مشرقی دنیا اور مغربی دنیا سے تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے انگریزی کے علاوہ اردو اور عربی میں بھی کتابیں لکھیں جو جماعت میں ایک یادگار خدمت ہے۔سادگی اگر چہ ہمیشہ صاف ستھرے لباس میں ہوتے تھے لیکن وہ بھی سادگی سے پُر تھا۔ایک اچکن گرمیوں کیلئے اور ایک اچکن سردیوں کیلئے تھی۔اس کے علاوہ ایک اوور کوٹ تھا جو سردیوں میں اچکن کے اوپر استعمال کرتے تھے۔آپ کی وفات تک میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے کوئی اور اچکن یا کوٹ خریدا ہو۔یہ طبیعت کی سادگی ہی تھی کہ اگر کسی نے کوئی کام کہا تو اس پر انکار نہیں کر سکتے تھے۔بیشک بعد میں ایسا ہوا کہ وہ کام نہیں کر سکتے تھے لیکن شروع میں نہ نہیں کہہ سکتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے عصر کی نماز کے بعد ایک جنازہ پڑھایا۔اس دن بارش ہوئی تھی اور باہر کافی کیچڑ تھا۔اس کے تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد ایک نوجوان ہمارے گھر آیا کہنے لگا کہ شمس صاحب کی وہ دوائی دے دیں جو وہ اپنی زبان کے نیچے رکھتے ہیں ان کو دل کی تکلیف ہوگئی ہے اور قبرستان سے آتے ہوئے راستے میں ٹھہر گئے ہیں۔چنانچہ میں بھی گیا۔ان کو دوائی دی اور آہستہ آہستہ واپس گھر لے کر آئے۔ہم نے پوچھا کہ آپ قبرستان کس لئے گئے تھے آپ کو علم تھا کہ باہر کیچڑ ہے اور اس میں آپ کو چلنے میں تکلیف ہوگی۔کہنے لگے کہ میت کے ساتھ جو رشتہ دار آئے ہوئے تھے انہوں نے مجھے کہا کہ آپ قبرستان میں دعا کرائیں اور میں انکار نہ کر سکا۔آپ کو شوگر کی بیماری کے علاوہ انجائنا (Angina) کی بھی تکلیف تھی لیکن کسی کے کہنے پر عذر بتانے سے گریز کیا اور ان کی دلجوئی کیلئے قبرستان چلے گئے۔میرے بڑے بھائی ڈاکٹر صلاح الدین شمس مرحوم تقریباً دو سال کے تھے اور بڑی بہن جمیلہ شمس چند