حیات شمس — Page xxv
xxiv دیئے جاتے اور آپ کتابیں لکھنے پر وقت صرف کرتے تو ہمارے زمانہ کے ”علامہ روم ہوتے۔قبولیت دعا حضرت والد صاحب کو اپنے خاندان کے حالات لکھنے کی خواہش صرف تاریخی لحاظ سے حفاظت کی خاطر نہ تھی بلکہ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کے کئی نشانات بھی ہوئے ہیں۔اس وقت بطور مثال میں دو باتیں عرض کر دیتا ہوں۔ہمارے خاندان میں نرینہ اولاد بہت چھوٹی عمر میں فوت ہو جاتی تھی اور اگر کوئی بیٹا زندہ رہتا تو ایک ہی ہوتا تھا۔کئی بچے فوت ہونے پر ہمارے دادا حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوائی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں درخواست دعا کی۔حضور نے نہ صرف دعا کی بلکہ ایک دوائی ( کشتہ فولاد ) بھی عطا فرمائی جو بعد میں عام لوگوں کے فائدہ کیلئے بھی مہیا کی گئی اور اس طرح اس نسخہ سے بہت سے لوگوں نے فائدہ بھی اٹھایا۔یہ نسخہ ہمارے دادا کی روایات مندرجہ رجسٹر روایات میں لکھا ہو ا موجود ہے۔بفضلہ تعالیٰ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ہمارے خاندان میں بعد میں جو نرینہ اولاد ہوئی وہ زندہ رہی۔یہاں میں یہ عرض کر دوں کہ اس کے بعد ایک عجیب صورت حال پیدا ہوئی جو قابل توجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی زندگی سلسلہ احمدیہ کے لئے وقف کر دی ان کے ہاں بہت نرینہ اولاد ہوئی جیسا کہ ہمارے والد صاحب اور ان کے چچازاد بھائی مکرم مولوی قمر الدین صاحب مرحوم۔باقی خاندان میں اگر چہ نرینہ اولاد ہے لیکن وہ ایک تک ہی محدود رہی۔الا ماشاء اللہ۔اگر اس خاندان کے شجرہ میں دیکھا جائے تو یہ حیرت انگیز بات نظر آتی ہے۔صرف ہمارا ہی خاندان نہیں بلکہ کئی واقفین خاندانوں میں ایسی مثالیں نظر آتی ہیں۔میرے تایا جن کا نام بشیر احد تھا اور وہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے، ایک دفعہ بیمار ہو گئے۔بہت تیز بخار تھا اور ان کے کچھ گلٹیاں بھی نکل آئیں۔اس سے خدشہ ہوا کہ یہ کہیں طاعون نہ ہو۔چنانچہ ہمارے دادا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تشویش کا اظہار کیا اور دعا کی درخواست کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جس کو میں جانتا ہوں یا جو مجھے جانتا ہے اس کو طاعون نہیں ہوسکتی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بالکل صحت یاب ہو گئے۔ہمارے تایا جان جوانی کی عمر میں ہی وفات پاگئے۔اس وقت ہمارے والد صاحب فلسطین میں بطور مبلغ خدمات بجالا رہے تھے اور جس دن