حیات شمس — Page 174
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 174 کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔پس میں اپنے تجربہ کی بناء پر تمام احمدی احباب اور دوسرے مسلمان بھائیوں کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ اگر وہ اس مسئلہ کو ان دلائل کے ساتھ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کئے ہیں کسی پادری کے سامنے پیش کریں گے تو وہ ہرگز ان دلائل کو توڑنے پر قادر نہیں ہوگا اور ان دلائل کے جاننے کیلئے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” مسیح ہندوستان میں“ کا مطالعہ کرنا الفضل قادیان 15 جولائی 1927ء) چاہئے۔اسلامی ممالک پر عیسائیت کے حملے کا اندفاع ( مولانا جلال الدین صاحب شمس ) مسیحی مبلغین اسلامی ممالک میں پھیل چکے ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں۔فلسطین میں قدس، حیفاء یافا دوغیرہ میں۔عراق میں بغداد، بصرہ، موصل وغیرہ میں مسیحی مشن قائم ہیں۔ان مشنوں کے علاوہ سال میں ایک مرتبہ پادری ہر ایک گاؤں کا دورہ کرتے ہیں۔شام میں پروٹسٹنٹ کا ڈنمارک کی طرف سے مشن قائم ہے اور اس کے علاوہ ایک امریکن مشن ہے جو کہتا ہیں اور ٹریکٹ شائع کرتے رہتے ہیں۔بیروت میں تین چار مشن ہیں اور ایک یونیورسٹی ہے جو ان تمام ممالک اسلامیہ میں مشہور ہے۔وہ بھی امریکہ کی ایک کمیٹی کی طرف سے ہے اور ایک اخبار النشرة کے نام سے یونیورسٹی کی طرف سے ہفتہ وار شائع ہوتا ہے۔اس سے جو مسلمان طالب علم تعلیم پا کر نکلتے ہیں ان سے تقریبا اسی فیصدی لا دینی ہوتے ہیں۔اب تو یہاں ایک ہسپتال کھولا جا رہا ہے اور بعض گاؤں میں مسیحی مبلغین دورہ کر رہے ہیں مگر مسلمان خواب غفلت میں پڑے ہیں اس فتنہ کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور ان کی اپنی حالت یہ ہو رہی ہے کہ دن بدن دین چھوڑ رہے ہیں۔خصوصاً نو تعلیم یافتوں کا اکثر حصہ دین کی پرواہ نہیں کرتا۔چونکہ مجھے اکثر ایسے لوگوں سے گفتگو کا موقع ملتا ہے میں نے مسلمان کہلانے والے نو جوانوں کو جن کے آباء آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کیلئے اپنی جان کو فدا کرنا اپنے لئے باعث فخر خیال کرتے تھے اعلانیہ گالیاں دیتے دیکھا ہے۔میرا پہلے تو یہاں کے مرکز کے انچارج کے پادری سے کامیاب مباحثہ ہوا اب میں نے یہ ارادہ کیا کہ مسیحیت کے خلاف ہر ماہ چند ٹریکٹ ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کئے جایا کریں۔چنانچہ پہلے ٹریکٹ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی پیشگوئیاں تو رات اور انجیل کی رو سے اور پھر اس بات کا ذکر کیا ہے