حیات شمس — Page 175
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 175 کہ مسیحی لوگ مسیح کی آمد ثانی کی خوشی میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی توجہ نہیں دیتے اور نہ ہی ماننا ضروری خیال کرتے ہیں اس لئے میں بتانا چاہتا ہوں کہ جس کی تم انتظار کر رہے ہو وہ خود نہیں آئے گا بلکہ اس کے آنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی خو بو کا ایک شخص آئے گا اور وہ امت محمدیہ میں سے ہوگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادموں میں سے ہو گا چنانچہ وہ آچکا ہے۔مسیح ناصری اس لئے آیا تھا کہ تا وہ لوگوں کو سنائے کہ آسمان کی بادشاہت آنے والی ہے اور اس کا اس نے حواریوں کو حکم دیا تھا کہ آسمانی بادشاہت کے قرب کی خبر لوگوں کو سنا دیں۔مسیح موعود اس لئے آیا کہ تا یہ گواہی دیوے کہ وہ آسمانی بادشاہت جس کی تم انتظار کر رہے تھے وہ آچکی ہے یعنی وجود باجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔دمشق میں آپ کا زخمی ہونا الفضل قادیان 30 ستمبر 1927ء) 24 دسمبر 1927ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دو تار ایک دمشق سے اور دوسری سماٹرا سے موصول ہوئے۔دمشق کے تار میں مولوی جلال الدین صاحب مولوی فاضل احمدی مبلغ کے کسی شقی القلب انسان کے ہاتھوں زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔حضور کے ارشاد کے ماتحت اس تار کا اعلان اسی وقت بورڈ پر لکھ کر لگا دیا گیا جس میں مولوی جلال الدین صاحب کی صحت و عافیت کیلئے دعا کی تحریک بھی کی گئی۔پھر حضور نے یہ اعلان کرایا کہ احباب مسجد اقصیٰ میں جمع ہوں جہاں مل کر دعا کی جائے گی۔حضور نے بارہ بجے تشریف لانے کا ارشاد فرمایا۔احباب کی ایک کثیر تعداد جن میں جلسہ کے لئے تشریف لانے والوں کی بھی ایک خاصی تعداد تھی مسجد میں جمع ہو گئے۔حضور ٹھیک بارہ بجے مسجد میں رونق افروز ہوگئے او منبر پر کھڑے ہو کر سب ذیل مخصر تقریر فرمائی۔ارشاد سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی آج دو تاریں دو مختلف علاقوں کے مبلغوں کی طرف سے آئی ہیں۔چونکہ وہ ایک قومی رنگ میں قومی اہمیت رکھتی ہیں اس لئے میں نے دوستوں کو اس جگہ جمع کیا ہے تا کہ انہیں سنائی جائیں اور احباب مل کر دعا کریں۔ایک تار تو شام سے آیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ مولوی جلال الدین صاحب پر جو کہ ہمارے شام کے مبلغ ہیں کسی نے حملہ کیا ہے اور خنجر سے زخمی کر دیا ہے۔ابھی یہ تفصیل معلوم نہیں ہوئی کہ انہیں کیسے زخم آئے ہیں۔معمولی ہیں یا سخت لیکن