حیات شمس — Page 103
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 103 یہ مناظرہ مبارک کرے اگر اس مبارک مقصود سے پبلک کو بھی کچھ فائدہ پہنچ جاوے تو آپ کا اس میں کیا حرج ہے۔تو مولوی محمد امین فریق ثانی نے فرمایا کہ فی الحال میں شرائط طے نہیں کرسکتا کیونکہ میرے ہم خیال کچھ چند آدمی باہر سے آنے والے ہیں ان کے آنے پر پھر اطلاع دی جاوے گی۔یہ بات کہہ کر مولوی صاحب ثانی اپنے مکان کو چل دیئے اور یہ بھی کہہ گئے کہ مناظرہ جمعہ کے بعد شروع کیا جاوے گا۔خیر مناظرہ گاہ میں عام احباب احمدی اور غیر احمدی بیٹھے ہوئے تھے تو ایک معزز صاحب نے سوال کیا وو کہ مجھے مرزا صاحب کے اس الہام کا پتہ نہیں لگتا۔جو کہ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ : دنیا میں ایک نبی آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا اور خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔“ اس کے جواب میں ہمارے فاضل مولوی جلال الدین صاحب مناظر بیٹھے جواب دے رہے تھے تو احباب کی طرف سے درخواست ہوئی کہ اس کے متعلق کھڑے ہوکر تقریر ہونی چاہیئے تو مولوی صاحب موصوف نے خوب مدل تقریر فرمائی جس کا لوگوں کے دلوں پر خوب اثر پیدا ہوا اور اعتراض الہام کو خوب دلائل کے ساتھ حل کیا گیا۔اسی طرح پر دوران تقریر میں غیر احمد یوں کی طرف سے اعتراض ہوتے چلے گئے جن کا جواب بھی مولوی صاحب فاضل خوب دیتے رہے جو کہ عام پبلک کی سمجھ میں آتے گئے۔اس کے بعد نماز جمعہ کا وقت ہو گیا اور جلسہ پبلک ختم کیا گیا۔پھر جمعہ کی نماز کے بعد وقت مناظرہ کا قریب ہو گیا تھا۔سب صاحبان مناظرہ گاہ میں آگئے اور دو بجے فریق ثانی کو کہا گیا کہ وقت مناظرہ ہو گیا ہے لیکن آپ کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی تو مناظر ثانی نے کہا۔اچھا مناظرہ تقریری شروع ہونا چاہئے تو ہمارے مناظر صاحب نے کہا کہ اچھا آپ شروع کریں۔اس کے بعد مناظر ثانی نے مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی پیشگوئی پر چند کتابوں کے حوالہ جات پر اعتراض کئے جن کے جواب میں ہمارے مولوی جلال الدین صاحب مناظر نے خوب تشریح کے ساتھ بڑے مدلل جواب دیئے جن کا پبلک کے دلوں پر اچھا اثر پیدا ہوا اور ہر ایک خاص و عام کی سمجھ میں آتا گیا اور خاص کر مناظر ثانی کے دل پر بہت اچھا اثر ہو ا جس سے پتہ لگا کہ فریق ثانی کا مقصد حق شناسی تھا اور اس کے دل پر حق نے اچھا اثر کیا کیونکہ وقت مناظرہ ختم ہو چکا تھا تو فریق ثانی نے پانچ منٹ کی اور درخواست کی کہ مجھے پانچ منٹ اور دیئے جاویں تا کہ میں بقایا شکوک کو رفع کرلوں تو