حیات شمس

by Other Authors

Page 104 of 748

حیات شمس — Page 104

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 104 ہمارے مناظر صاحب نے پانچ منٹ کی جدید درخواست نامنظور فرمائی اور فریق ثانی نے پھر دوسرے احباب کی سفارش کے ساتھ دس منٹ دینے کی درخواست کی تو تب ہمارے مناظر صاحب نے اس درخواست کو منظور فرمایا اور مناظر ثانی کے بقایا شکوک اچھی طرح سے بذریعہ حوالہ جات بخاری شریف و دیگر بزرگان دین کے حوالہ جات رفع کئے۔اس کے بعد مناظرہ ختم ہوا اور نماز مغرب ادا کی گئی۔نماز ادا کرنے کے بعد مولوی محمد امین کو پھر وہی حق مسجد کی طرف پکڑ کر لے آیا اور آتے ہی مولوی صاحب نے ہمارے چند احباب کے نام نوٹ کئے اور درخواست کی کہ اگر میں مرزا صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہوں تو کس طرح پر کر سکتا ہوں۔تو سب احباب نے کہا کہ آپ نے جب آنا ہو تو ہمیں اطلاع دیں یا قادیان میں آجانا ہم انتظام کر دیں گے۔تو مولوی صاحب نے فرمایا کہ بہت اچھا میں حاضر ہوں گا اور ساتھ یہ بھی درخواست کی کہ اخبار الفضل یا کوئی اور پرچہ میرے پاس بھیجنا۔میں نے کہا کہ میرے پاس الفضل آتا ہے میں ٹانڈہ میں آپ کو دکھا دیا کروں گا۔پھر کہنے لگے کہ نہیں میں نے ٹانڈہ سے چلے جانا ہے۔اتنا کہہ کر مولوی صاحب چلے گئے اور اپنے سب احباب مسجد سے اپنے مکان کو آگئے۔مولوی صاحب محمد امین کے اس کہنے پر مجھے خیال پیدا ہوا ہے جو کہ میں مرزا صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کروں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ مولوی صاحب کو مرزا احمد بیگ کی پیشگوئی کا مفصل پر نہیں ہے کیونکہ مولوی صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر مجھے اس پیشگوئی کے شرائط مشروط ہونے کی خبر ہوتی تو میں اس پر مناظرہ ہی نہ کرتا۔خیر اب بھی اچھا ہو گیا کہ مولوی صاحب کی غلطی کا ازالہ ہو گیا۔آئندہ کیلئے پیشگوئی مذکورہ پر مناظرہ نہ کریں گے۔اب میں رپورٹ مناظرہ ختم کرتے ہوئے ان معززین احباب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جن صاحبان نے اجلاس مناظرہ میں تشریف آوری فرما کر جلسہ کو بارونق کیا اور بڑے امن اور غور وفکر کے ساتھ مولوی محمد امین کے اعتراضوں کی تردید کو مد نظر رکھ کر حق اور باطل سے فائدہ اٹھایا اور خاکسار خاص کر سردار گھیر سنگھ صاحب سب انسپکٹر پولیس تھانہ ٹانڈہ کی ان مہر بانیوں کا جو کہ خاکسار کی معروض پر غور کر کے معہ ایک کنسٹیل کے انتظامیہ معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیکر غریب نوازی کی اور وقت مناظرہ کو بڑے امن کے ساتھ پورا کیا ان کا نہایت مشکور ہوں اور لالہ چند ولعل صاحب