حیات شمس — Page 102
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس غیر احمدی تھے ) خوب ہنسے اور کہنے لگے کہ خوب! مولوی عبد اللہ صاحب کی حوصلہ افزائی کیلئے کسی کو توفیق ملی تو صرف اور صرف ایک عیسائی کو۔اس مباحثہ کا کامیاب اور مؤثر ہونے کا اندازہ اس امر سے ہوسکتا ہے کہ مباحثہ کے بعد چوہدری سردار محمد صاحب آف پارووال نے بیعت کر لی۔مرزا محمد دین صاحب آف لنگروال نے ( جو باوجود بچپن سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس رہے تھے لیکن اب تک احمدی نہ ہوئے تھے ) بیعت کر لی۔میرے دل سے احمدیت کے خلاف تعصب جاتا رہا اور میرے دل میں احمدیوں کا احترام پیدا ہوا اور پھر اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں داخل ہونے کی الفضل ربوہ 20 اکتوبر 1966ء) سعادت بھی عطا فرمائی۔فالحمد للہ علی ذالک۔مباحثہ عالم پور کوٹلہ 102 مکرم سندھی شاہ احمدی صاحب ٹانڈہ ) مورخہ 8 اکتوبر 1920ء بروز جمعه بر مکان خانصاحب عزیز الرحمن خان رئیس عالم پور کوٹلہ کا روائی مناظرہ مقرر ہوئی۔قبل از وقت مناظرہ بوقت نو بجے صبح کے مناظر ثانی کو اطلاع دی گئی کہ مناظرہ کی کارروائی شرائط طے کر کے شروع کر دی جاوے مگر مناظر ثانی کی طرف سے فی الحال کوئی جواب نہ ملا۔پھر دوبارہ مناظر ثانی کے پاس آدمی بھیجا گیا پھر بھی مناظر ثانی مناظرہ گاہ میں آنے سے گریز کرتا رہا۔آخر کار یہ خاکسار معہ چند ا حباب کے مناظر ثانی کے پاس گیا۔مناظرہ کے متعلق ان کو کہا گیا۔آخر بہت تکرار کے بعد مناظر ثانی مناظرہ گاہ میں آئے تو ہمارے مناظر صاحب نے فرمایا کہ آپ شرائط مناظرہ طے کر کے کاروائی مناظرہ شروع کر دیں۔تو مناظر ثانی نے کہا کہ مناظرہ تحریری اور تقریری ہونا چاہیئے۔یعنی پہلے ایک گھنٹہ تحریر ہو جائے پھر اسی تحریر پر لوگوں میں بیان کر دیا جائے تو ہمارے مناظر صاحب نے فرمایا۔ایک گھنٹہ ایک فریق کے پرچہ کو تحریر کرتے ہوئے خرچ ہو گا اتنا ہی دوسرے کو۔تو اس طرح پبلک کو کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی پبلک اتنا عرصہ بے کار بیٹھ سکتی ہے کیونکہ پبلک ایک گھنٹہ منہ تکتی رہے گی کہ مولوی صاحبان کا کب پر چہ ختم ہو اور سنایا جاوے اس لئے بہتر ہے کہ تقریر شروع ہو جاوے۔تو مولوی ثانی نے فرمایا کہ مجھے پبلک سے کوئی سروکار نہیں ہے میں نے تو اپنی حق شناسی کرنی ہے تو ہمارے مولوی جلال الدین صاحب مولوی فاضل مناظر نے فرمایا کہ اگر آپ کا یہی مقصود ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کے لئے