حیات شمس — Page 66
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 66 گوکھووال والے ( جو غالباً 1924ء میں سفر یورپ میں ہمسفر خادم تھے ) بھی اسی کلاس کے طلبہ میں سے تھے۔محترم مولانا شمس صاحب نے مدرسہ احمدیہ کی ہر کلاس سے بفضلہ تعالیٰ اچھے نمبروں میں کامیاب ہوتے ہوئے 1919ء میں پنجاب یو مینورسٹی سے مولوی فاضل کا ڈپلومہ الفضل ربوہ 17 نومبر 1966ء صفحہ 5) آپ کے ایک دوست، ہم جلیس اور عزیز حضرت مولانا قمر الدین صاحب مرحوم ، صدر اول مجلس خدام الاحمدیہ آپ کے بچپن کے بارہ میں تحریر کرتے ہیں : حاصل کیا۔خاکسار اور حضرت مولانا ایک لمبازمانہ اکٹھے رہے ہیں۔مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے کہ ہم اکٹھے سیکھواں سے قادیان تعلیم کے حصول کی غرض سے آتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ہیڈ ماسٹر تھے۔پھر بڑی کلاسوں میں جا کر ہم نے قادیان میں رہائش اختیار کی۔وہاں عرفانی سٹریٹ میں ہم اپنے مکان کے ایک کمرہ میں رہتے تھے اور کھانالنگر سے کھاتے تھے۔سفر و حضر میں اکٹھا وقت گذرتا تھا۔قادیان کے گلی کوچوں میں اکٹھے نکلتے اور اکٹھے واپس آتے۔سیر کو اکٹھے جاتے ، اکٹھے واپس آتے۔یہی صورت نمازوں کی تھی۔آخری کلاسوں میں گئے تو ہم بورڈنگ احمد یہ میں داخل ہوگئے اور وہیں سے آخری امتحان پاس کر کے سلسلہ کے کاموں میں لگ گئے۔اس سارے عرصہ میں عینی شاہد کے طور پر یہ میرا بیان ہے کہ حضرت مولانا نہایت متدین علم دوست حلم و بردباری کے پیکر، خوش اخلاق اور سادہ طبیعت تھے۔طالب عملی کے زمانہ میں امتحان دے کر جب ہم سیکھواں رخصتوں پر جاتے تو مولا نا قرآن کریم حفظ کیا کرتے تھے اور گو آپ سارے قرآن کے تو حافظ نہ تھے مگر قرآن کریم کا بیشتر حصہ ان کو حفظ تھا اور اس کے نتیجہ میں وہ موقع ومحل کی آیات اپنی گفتگو میں پیش کرتے تھے اور لوگوں پر آپ کے قرآنی استنباط سے نیک اثر پیدا ہوتا تھا۔تحریک وقف زندگی ( خالد احمدیت جلد اول مرتبہ عبد الباری قیوم، جلد اول صفحات 6-7) حضرت مولانا صاحب کو یہ شرف بھی حاصل رہا ہے کہ جب سید نا حضرت خلیفہ المسح الثانی نے 1917ء میں زندگی وقف کرنے کی تحریک فرمائی تو اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے جن 63 نو جوانوں