حیات شمس — Page 67
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 67 نے اپنے نام پیش کئے ان میں آپ بھی تھے۔ان میں سے بعض کے اسماء حسب ذیل ہیں : مولوی جلال الدین صاحب شمس، مولوی عبدالرحیم صاحب ایم اے، شیخ یوسف علی صاحب بی اے، صوفی عبد القدیر صاحب نیاز صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی، مولوی ظہور حسین صاحب بخارا، مولوی غلام احمد صاحب، مولوی ابوبکر صاحب سماٹری ، مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی ، خان بہادر مولوی ابوالہاشم خان صاحب ایم اے، مولوی مبارک علی صاحب بنگالی ، شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ، اور مولوی رحمت علی صاحب مولوی فاضل۔الفضل قادیان 22 دسمبر 1917 نیز 17 جولائی 1943ء) مبلغین کلاس کے پہلے طالب علم حضرت مولانا شمس صاحب بیان کرتے ہیں : جب میں 1919ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کر چکا تو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے میرے لئے ایک نصاب تعلیم تجویز کیا۔اس نصاب میں سب سے بڑا آئیٹم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ اور ان کا خلاصہ نکالنا تھا۔اس اثناء میں مجھے چھ ماہ کیلئے نظارت تالیف و تصنیف میں بھی کام کرنا پڑا۔اس وقت حضرت حافظ [ روشن علی صاحب مرحوم بھی اسی نظارت میں بطور نگران کام کرتے تھے اور [ حضرت مولانا عبدالرحیم در د صاحب مرحوم ناظر تھے۔اس چھ ماہ کے عرصہ میں حضرت حافظ صاحب مرحوم کی نگرانی میں میں نے چند کتب اور بہت سے مضامین لکھے۔1920ء میں جب مولوی ظہور حسین صاحب اور مولوی غلام احمد صاحب بدوملهوی وغیرہ مولوی فاضل کا امتحان پاس کر چکے تو مبلغین کلاس جاری کی گئی جس کا سب سے پہلا طالب علم خاکسار تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب بھی اس کلاس میں شامل ہو گئے۔یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ہمیں حضرت حافظ صاحب مرحوم جیسے مشفق و مہربان اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول خدا ﷺ کی احادیث کا عالم باعمل استاد ملا جنہوں نے کمال ہمدردی اور بے مثل شفقت اور بے لوث محبت اور خاص محنت اور توجہ سے رات دن ایک کر کے ہمیں خدا تعالیٰ کی پاک کتاب اور احادیث اور دیگر علوم مروجہ کی کتب پڑھائیں۔(الفرقان ربوہ دسمبر 1960 ء صفحہ 26) مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ابتدائی طلباء کا ذکر کر دیا جائے۔حضرت عرفانی الکبیر رقمطراز ہیں :