حیات شمس

by Other Authors

Page 57 of 748

حیات شمس — Page 57

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 57 صاحب کے ہمراہ قادیان میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لئے آنا جانا یاد ہے۔پھر طاعون کے ایام میں ربّ کل شی خادمک وغیرہ دعائیں بچپن سے انہی کی سکھائی ہوئی مجھے یاد ہیں۔میں گاؤں کے مدرسہ میں تعلیم پاتا تھا کہ اخبار بدر، احکم اور اردور یو یو کے پرچے مجھ سے پڑھوا کر سنا کرتے تھے۔پھر ایک دن ایسا آیا جو میری زندگی کے مستقبل کے لئے ایک فیصلہ کن دن کہنا چاہئے۔جب میں مدرسہ احمدیہ کی دوسری جماعت میں پڑھتا تھا اس وقت ہم سات طالب علم گاؤں سے روزانہ آیا کرتے تھے۔لیکن جب میں تیسری جماعت میں ہوا۔تو اس وقت صرف مولوی قمر الدین صاحب [ ابن حضرت میاں خیر الدین سیکھوانی ، خدام الاحمدیہ کے صدر اول مدفون بہشتی مقبرہ ربوہ) اور میں رہ گئے تھے اور دونوں ہی سکول چھوڑنے کا ارادہ کیا کرتے تھے۔موسم گرما کی ڈیڑھ ماہ کی رخصتوں کے بعد جب مدرسہ جانے کا دن آیا تو میں نے انکار کر دیا کیونکہ صبح چار پانچ بجے کے قریب جبکہ ابھی اندھیرا ہی ہوتا تھا ہمیں گاؤں سے چلنا پڑتا تھا تا سکول میں وقت پر حاضر ہو جائیں۔تب میرے والد صاحب نے مجھے مارا اور تقریباً ایک میل تک ساتھ آئے۔میں ہچکیاں لیتا روتا ہوا ان کے ساتھ چلا گیا۔اس کے بعد ہم کچھ مدت کے لئے اپنے رشتہ داروں کے گھر قادیان رہنے لگے۔پھر اس کے بعد سکول چھوڑنے کا خیال نہیں آیا۔وہ دن تھا اگر اس دن والد صاحب سختی نہ کرتے تو نمعلوم میری زندگی کا مستقبل کیا ہوتا۔ان کی اس سختی کو یاد کر کے میں ہمیشہ ان کے لئے دعا کرتا ہوں۔عزم و ہمت اور صبر و استقلال میں جب فلسطین میں تھا اور مخالفت کا بازار گرم تھا۔بڑوں سے لے کر چھوٹوں تک میری مخالفت کر رہے تھے۔بعض مشائخ میرے مونہہ پر کہتے تھے کہ تم قتل کے سزاوار ہو۔انہی ایام میں میرے اکلوتے بھائی بشیر احمد صاحب مرحوم وفات پاگئے۔انہوں نے اپنے آخری ایام میں مجھ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔والد صاحب نے مجھے لکھا کہ تمہاری والدہ کی خواہش تھی کہ حضرت صاحب سے عرض کروں لیکن تم تبلیغ کے کام میں مصروف ہو میں نے کہنا مناسب نہ سمجھا لیکن اس سے قبل کا کو میری پھوپھی صاحبہ عرف مائی کا کو) نے ایک دفعہ حضور سے عرض کیا تھا تو حضور نے فرمایا ہمیں ان کے متعلق آپ کی نسبت زیادہ فکر ہے۔چند روز