حیات شمس

by Other Authors

Page 58 of 748

حیات شمس — Page 58

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس کے بعد بھائی مرحوم کی وفات کی خبر ناظر صاحب تبلیغ کی طرف سے بذریعہ تار پہنچی۔بعد میں والد صاحب مرحوم کا خط ملا جس میں آپ نے قضاء الہی پر رضا کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمہاری والدہ نے بھی قابل تعریف صبر کا نمونہ دکھایا ہے۔میرا انگلستان کا سفر 58 جب میں انگلستان آنے لگا تو میں نے والد صاحب سے عرض کیا کہ وہ اب گاؤں سے قادیان آجائیں۔چنانچہ اس وقت سے وہ گاؤں چھوڑ کر قادیان رہتے تھے اور ان کی موجودگی سے میں خانگی امور کی طرف سے بالکل بے فکر اور مطمئن تھا۔گذشتہ سال آپ نے مجھے لکھا کہ عزیز حمید احمد اور عزیز محمودہ ( میرا بھتیجا اور بھتیجی ) اب جوان ہو گئے ہیں اور ان کی شادیاں کرنی ہیں سب کی رائے یہ ہے کہ تمہارے واپس آنے تک ملتوی رکھی جائیں میں نے جواب دیا کہ میری واپسی میرے اختیار میں تو ہے نہیں نمعلوم مجھے کتنی مدت ٹھہر نا پڑے۔آپ گھر میں موجود ہیں آپ عزیزوں کی شادیاں کر دیں۔چنانچہ اس سال اپنے آخری خط میں جو کیم مارچ کا لکھا ہوا ہے اور مجھے اپریل کے آخر میں ملا لکھا۔اب حمید احمد کی شادی کی تیاری ہورہی ہے۔بہتر تو یہ تھا کہ آں عزیز کی اس شادی میں شمولیت ہوتی مگر حضرت صاحب کی طرف سے ابھی کوئی خبر نہیں سنی کہ آنے کی کب اجازت ہوگی اور جنگوں کے باعث بھی روک رہی ہے کیونکہ آجکل آنا جانا مشکل ہو گیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کا کیا منشا ہے۔شاید آں عزیز کی معرفت کوئی نشان قائم ہونا ہو۔سب چیز خدا کے دست قدرت میں ہے۔گذشتہ سال حمید کی شادی کے متعلق لکھا تھا تو اس کا جواب یہ آیا تھا کہ میرے اختیار میں کیا ہے میرے باعث شادی کو نہ روکنا اس واسطے سال گذر جانے کے بعد تیاری ہوگئی ہے۔( یہ شادی کرنے کے چند روز بعد ہی آپ فوت ہو گئے۔) ندائے غیب کبھی کبھی والد صاحب اپنے خطوط میں اپنے قومی میں ضعف آنے کا بھی ذکر کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ کو اپنی وفات کا احساس بھی بہت بڑھ گیا اور اپنی زیادتی عمر کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔چنانچہ آپ نے اپنے خط مورخہ 1937-7-11 میں مجھے لکھا۔