حیات شمس — Page 56
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 56 اس مجلس میں حاضر تھا سرداروں کی اس کارروائی کا سبب دریافت کیا۔اس نے کہا کہ آپ سے گفتگو کا سلسلہ بھی میری رائے کی بنا پر شروع ہوا تھا ورنہ تجویز دی تھی کہ آپ کو اندر بلا کر خوب مارا جائے اور چوری وغیرہ کا الزام لگا دیا جائے۔اس نے وجہ یہ بتائی کہ سرداروں کا خیال ہے کہ پنڈت لیکھرام کا قاتل چھینہ ٹیشن سے اتر کر تمہاری معرفت قادیان گیا اور انعام و اکرام پا کر واپس ہو ا۔آپ نے اصل حقیقت بتائی مگر اس پر آپ کی بات کا کوئی اثر نہ ہوا۔آپ نے سارا واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا اور حضور نے اپنا الہام و جـاعــل الذين اتبعوک فوق الذين كفروا الى يوم القيامة پڑھا۔سلسلہ کی طرف سے جو تحریکات ہوتیں ان میں بقدر استطاعت حصہ لیتے اور سلسلہ کی طرف سے جو کام آپ کے سپرد کیا جاتا وہ رضا کارانہ احسن طریق پر بجا لاتے۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں نے انہیں صبح کے وقت بلا ناغہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے دیکھا ہے۔آواز اچھی تھی۔کام کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار بہ آواز بلند پڑھا کرتے تھے۔بچپن سے میں نے انہیں فارسی قصیدہ مندرجہ ازالہ اوہام کے شعر پڑھتے ہوئے کئی مرتبہ سنا۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو انہوں نے خدا کی پیشگوئیوں کے مطابق جلد جلد بڑھتے دیکھا اس لئے حضور کی ان کے دل میں بہت عظمت تھی۔جب شیخ مصری کا فتنہ اٹھا اور ان کے خلاف اشتہارات نکالنے کی تجویز ہوئی تو میں نے والد صاحب کی خدمت میں لکھا کہ وہ اس تحریک میں میری طرف سے دور و پیہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں خود حاضر ہو کر پیش کریں۔اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے لکھا ” بعد میں میں نے کچھ اپنے متعلق حضور سے عرض کرنا چاہا لیکن مجھ پر رقت طاری ہوگئی اور کچھ نہ کہہ سکا حضور سے ملاقات کرتے وقت ان کی اکثر یہی کیفیت ہوا کرتی تھی۔میری تربیت میری تربیت اور تعلیم میں والد صاحب کا بہت دخل ہے۔آپ کا نیک نمونہ ہر وقت میرے لئے خضر راہ رہا۔تینوں بھائیوں میں سے سب سے زیادہ جو قادیان میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے آیا کرتے تھے وہ والد صاحب مرحوم تھے۔میں پانچ چھ سال کا تھا جب سے مجھے والد