حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 45
۴۵ اب مشرقی معاشرے کا ذکر چل رہاہے لیکن یہ تو بڑا مشکل کام ہے کہ سارے مشرقی معاشرے کا ذکر کیا جائے مگر میں اب جب مشرقی معاشرے کی بات کروں گا تو میری مراد یہ ہے کہ وہ احمدی خواتین جو مشرقی ممالک میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلیں اُن کا معاشرہ ایک پہلو سے مشرقی معاشرہ ہے لیکن لازم نہیں کہ ہر پہلو سے وہ اسلامی معاشرہ بھی ہو۔اس لئے اگر انہوں نے دنیا کی معلمہ بنے کی کوشش کرنا ہے، اگر انہوں نے تمام بنی نوع انسان کی اس شدید ضرورت کو پورا کرنے میں کوئی اہم کر دار ادا کر تا ہے کہ آج بنی نوع انسان کو گھر کی ضرورت ہے تو اچھا گھر بنا کر پھر اس گھر کے نمونے پیش کریں۔ماڈل اسلامی معاشرہ کی ضرورت آپ نے دنیا میں دیکھا ہو گا کہ جدید انجنیئرنگ کے اثر کے نتیجہ میں آج کل بڑی بڑی خوبصورت عمارت میں تعمیر ہوتی ہیں اور بعض عمارت میں ماڈل Model کے طور پر بنائی جاتی ہیں تاکہ وسیع پیمانے پر ویسے ہی اور گھر بنائے جائیں۔وہ ماڈل کہاں ہے ؟ یہ وہ سوال ہے جو مجھے پریشان کر رہا ہے، کون سا ایسا ماڈل ہے جس ماڈل کو ہم بنی نوع انسان کے سامنے اسلامی معاشرہ کے طور پر پیش کر سکیں۔اگر احمدی خواتین نے وہ ماڈل پیش نہ کیا تو وقت کے ایک اہم تقاضے کو پورا کرنے سے محروم رہ جائیں گی اور تمام بنی نوع انسان کو وہ امت واحدہ میں اکٹھا کرنے اور امت واحدہ کی کڑیوں میں منسلک کرنے میں ناکام رہیں گی اس لئے اس ضرورت کو جو میں آج آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں بہت اہمیت دیں۔یہ مضمون چونکہ بہت وسیع ہے اس لئے میں حتی المقدور کوشش کروں گا کہ نکات کی صورت میں آپ کے سامنے باتیں رکھوں۔مشرقی معاشرے کی کچھ بنیادی خرابیاں ہمارے معاشرے (ہمارے سے مراد میرا نہیں بلکہ میں تو ر دین حق کے۔۔ناقل معاشرے