حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 46
ट کا علمبردار ہوں اور اسی کی نمائندگی کرتا ہوں۔چونکہ میں مشرق سے تعلق رکھتا ہوں اس لئے عادتاً ہمارے“ کا لفظ زبان پر جاری ہو جاتا ہے تو مشرقی معاشرے میں بعض بہت ہی گہری خرابیاں پائی جاتی ہیں جو ہماری یعنی احمدیوں کی روز مرہ کی زندگی پر بھی اثر انداز ہیں۔ا رشتہ ناتہ میں مالی منفعت پر نظر ہشتوں کے معاملات میں ابھی تک ہماری خواتین کی اس حد تک اصلاح نہیں ہو سکی کہ وہ رشتے کرتے وقت اچھی لڑکی یا اچھے لڑکے کی دولت پر نظر رکھنے کی بجائے اچھی لڑکی یا اچھے لڑکے پر نظر رکھیں۔یہ جو عادت ہے یہ ہم نے بالعوم مشرقی معاشرے سے ورثہ میں پائی ہے اور اس کی بنیادیں مشرکانہ معاشروں میں قائم اور نصب ہیں۔ہندو معاشرے میں یہ رسمیں بہت زیادہ پائی جاتی تھیں کہ رشتہ کے وقت مالی منفعتیں بھی حاصل کی جائیں۔چنانچاس بدنصیبی کا در ثہ آج تک ہمارے ملک پاکستان میں جاری وساری ہے اور مہندوستان کے لینے والے مسلمانوں نے بھی اس سے حصہ پایا ہے جبکہ ہندو قوم اب اس سے بیزاری کا اظہار کر رہی ہے اور ہندو قوم میں نئی تحریکات چل رہی ہیں کہ ان نہایت خطرناک رجحانات کا قلع قمع کرنا چاہیئے اور اگر قانون بنانے کی ضرورت بھی پیش آئے تو قانون بنا کران بدرسموں کا استیصال کرنا چاہیے لیکن ہمارے ہاں روز مرہ ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کبیٹے کی ماں اس خیال سے کہ بیٹا چونکہ برسر روزگار ہے اور تعلیم یافتہ ہے ہو کی تلاش میں نکلتی ہے اور ہو کے اخلاق پر نظر رکھنے کی بجائے اس کے گھر پر نظر ڈالتی ہے۔یہ دیکھتی ہے کہ وہاں کس قسم کے صوفہ سیٹس Sofa sets ہیں۔دنیاوی زندگی کی سہولتیں موجود ہیں کہ نہیں۔کار ہے یا نہیں ہے اور اگر کار ہے تو کیا وہ اپنی بیٹی کو کار جہیز میں بھی دیں گے یا نہیں دیں گے اور دیگر جائیداد پر نظر ڈالتی ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ماں اپنی بہو کی تلاش میں نہیں نکلی بلکہ انکم ٹیکس کا کوئی انسپکٹر کسی جائیداد کا جائزہ لینے کے لئے نکل کھڑا ہوا ہے۔اس کے ایسے خوفناک بر نتائج پیدا ہوتے ہیں کہ اگر ایسی شادیاں ہو بھی