حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 72
۷۲ یورپ کا معاشرہ یورپ کے معاشرے کو اگر دو لفظوں میں بیان کیا جائے تو وہ تموج پیدا کرتا ہے بے چینی پیدا کرتا ہے، ایسی تحریکات آپ کے سامنے رکھتا ہے جس کے نتیجہ میں دل بے اطمینانی سی محسوس نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر طلب کی ایک ایسی آگ بھڑک اٹھتی ہے جو کسی پانی سے سمجھ نہیں سکتی جس پانی کی بھڑک دل میں پیدا ہوتی ہے وہ پانی سمندر کے پانی کی طرح شور پانی ہوتا ہے اور جتنا آپ اس سے پیاس بجھانے کی کوشش کریں اتنا ہی وہ بھڑک اور زیادہ ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ ایسی حقیقت ہے کہ جب کھول کر اہل مغرب کے سامنے پیش کی جائے توان کے دل گواہی دیتے ہیں اور وہ ہمیشہ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہماری Civilisation ہماری تہذیب ، ہمارا تمدن جن لذتوں کی طرف بلاتا ہے ان میں آخری تسکین کا کوئی مقام نہیں ہے محض پیچھے بھاگتا ہے اور مزید کی تلاش مزید کی طلب ہے جو آخر کہیں نہیں ملتا اور بالآخر وہ لوگ جو دنیاوی لذتوں کی تلاش میں بے لگام ہو کر بھاگتے پھرتے ہیں، اُن کو سوائے بے چینی کے لیے اطمینانی کے بالا خر کچھ بھی نصیب نہیں ہوتا۔قرآن کریم نے اس معاشرے کی تصویر ایک موقعہ پر یوں فرمائی جیسے کوئی سراب کے پیچھے دوڑ رہا ہو۔پیاس کی شدت اُسے سراب کی پیروی کے لئے اس کی طرف تیز تر بھگاتی چلی جائے لیکن وہ اس سے آگے بھاگتا چلا جائے یہاں تک کہ جب اس میں چلنے کی مزید سکت نہ رہے تو اپنے آپ کو اس سراب کے مقام پر پائے جہاں خدا اس کو جزاء دینے کے لئے پہنچا ہے اور اُسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔پس ان لوگوں کے اکثر انجام اسی قسم کے ہیں اور دن بدن ان کے معاشرہ میں بے چینی بڑھتی چلی جارہی ہے معاشرہ پر عذاب ہوتا چلا جارہا ہے۔اقتصادی لحاظ سے بلند مقامات پر فائز ہونے کے با وجود کوئی دولت ان کے دلوں کی تسکین کے سامان نہیں کر سکتی اور دن بدن گلیوں میں جرم