حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 71
وہ حفاظت کا مضمون رکھتی ہیں۔وہ عظمت اور تحریم کا مضمون رکھتی ہیں۔ان سے عورت کا مقام بلند ہوتا ہے۔اس سے عورت کو دنیا کی دلدلوں میں پھنسنے سے نجات ملتی ہے اس کے سوا ان قیود کا اور کوئی مطلب نہیں لیکن آج میں اس مضمون کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔کچھ اور باتیں ہیں جو میرے پیش نظر ہیں۔اول یہ کہ آج دنیا کو مسلمان عورت کے متعلق جو غلط فہمی ہے اس کے محض علمی جواب دینا کافی نہیں۔کیونکہ بسا اوقات حیف مجالس سوال و جواب میں اہل مغرب نے اس مضمون پر سوال کئے اور میں نے خدا تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ اور اس کی تائید کے ساتھ کسی حد تک تشفی بخش جواب دیئے تو کبھی ایسا بھی ہوا کہ کوئی عورت اُٹھ کھڑی ہوئی اور اُس نے کہا کہ اچھا ! اگر یہ اسلامی معاشرہ ہے تو اس کے نمونے تو دکھائیے۔کیا مصر میں یہ جنت ملتی ہے ؟ یا شام میں نظر آتی ہے ؟ یا سعودی عرب میں دکھائی دیتی ہے۔ایا پاکستان میں اس کا مظاہرہ ہوتا ہے ہے کسی اسلامی ملک کا نام تو لیجیے جہاں آپ کی بتائی ہوئی جنت دکھائی بھی توڑے۔پس محض بتانا کافی نہیں ہے۔وہ جنت جس کا میں ذکر کر رہا ہوں وہ ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ایک خواب نہیں ہے جس کی تعبیریں تلاش کی جائیں۔ٹھوس حقیقت احمدی خواتین نے اپنی زندگی اور اپنے معاشرے میں عملاً دنیا کو دکھانی ہے۔بیس بعض دفعہ میں اُن سے کہتا ہوں کہ وہ جنت اپنی آخری کامل اور حسین تر صورت میں تومیں تمہیں نہیں دکھا سکتا لیکن اگر تمھارے پاس وقت ہو اور اپنے ملک میں بسنے والی احمدی خواتین سے عو ان کے اجلاسوں میں آؤ۔ان سے سوال و جواب کرد۔ان کے گھروں میں جاکر دیکھو تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس جنت کی کچھ جھلکیاں تمھیں ضرور دکھائی دی گی اور یہ اللہ تعالی کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ یورپ میں بنے والی احمدی خوابی إلا ما شاء اللہ ایک ایسے معاشرے کو جنم دے رہی ہیں۔ایک ایسا معاشرہ پیدا کر رہی ہیں جو یورپ سے بالکل مختلف ایک معاشرہ ہے۔