حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 51
رحمی رشتوں کی حفاظت ضروری ہے اس مشرقی معاشرہ میں جہاں بظا ہر خاندان بڑے ہیں اور ظاہری روابط زیادہ مضبوط ہیں۔وہاں اندرونی طور پر ایک ایسا نظام چل رہا ہے جو ان روابط کو کاٹتا ہے اور نفرتوںکی تعلیم دیتا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے بار ہا ہمیں رحمی رشتوں کی طرف متوجہ فرمایا اور وہ آیت جس کی ہیں نے تلاوت کی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نکاح کے موقعہ پر پڑھا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہی شفقت میں اب ہمیشہ ہر مسلمان کے نکاح میں جو تین آیات پڑھی جاتی ہیں ان میں سے پہلی ہی ہے جس کی میں نے تلاوت کی تھی اللہ تعالی فرماتا ہے ، يا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا تَبَكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ اسے بنی نوع انسان ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو اس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے۔ایک ہی جان سے پیدا کرنے کے بہت سے مفاہیم ہیں۔اس موقعہ سے تعلق رکھنے والا ایک مفہوم یہ ہے کہ تم میں سے کوئی کسی دوسرے پر کوئی برتری نہیں رکھتا اور ایک جان میں اکٹھے ہونے کا مضمون پایا جاتا ہے۔اس لئے معاشرہ جو ایک جان سے پیدا کیا گیا ہے اس کو ایک جان والا معاشرہ بنا رہنا چاہیئے۔وہ معاشرہ جو ہٹ کر کئی جانوں میں تبدیل ہو جاتا ہے وہ اپنی اصل کو بھول جاتا ہے اور اس میں افتراق پیدا ہو جاتا ہے۔فرمایا، ہم نے تمہیں کثرت بھی عطا کی کثرت سے مرد بھی پیدا کئے اور عورتیں بھی پیدا کیں لیکن اس لئے نہیں کہ تم باہم اختراق اختیار کرو۔ایک دور سے دلوں کے لحاظ سے پھٹ جاؤ بلکہ اس لئے کہ تم ان تعلقات کو دوبارہ باندھو اور پھر ایک ہونے کی کوشش کردن یہ پیغام اس آیت کے آخر پر یوں دیا گیا کہ : اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ ہے و الان حام ہم نے ہمیں تمام ناہیں پھیلا دیا اور ایک جان سے بے شمار جانیں پیدا کیں مگر اس لئے نہیں کہ رشتے ٹوٹ جائیں بلکہ اس لئے کہ رشتے قائم ہوں اور بڑے احترام کے ساتھ قائم ہوں۔فرمایا جسں خدا سے تم منتیں کر کے اپنی مرادیں مانگتے ہویادر کھا کہ وہ خدا نہیں تعلیم دے رہا ہے کہ