حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 50

ساس کا بہو سے حسد بھر یہ باتیں معاشرے کی بدلیوں کی شکل میں اور زیادہ گہری ہو جاتی ہیں جب ماں اپنی ہو سے Jealous (حامد) ہو جاتی ہے۔یہ چیز یہاں یورپ کے معاشرہ میں تو کہیں دکھائی نہیں دیتی لیکن مشرقی معاشرہ میں ہر جگہ موجود ہے۔ایک بیٹا جو اپنی بیوی سے پیار کرتا ہے جس کو بظا ہر بڑے شوق سے اور بڑے چاؤ سے اس کی ماں نے بیاہ کر اپنے گھر میں بسایا تو اس وقت کے بعد سے وہ ماں اس کو اجاڑنے پر تل جاتی ہے۔کوئی موقعہ ایسا ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس سے اس بیچاری بیٹی کا گھر نہ جڑے چنانچہ بیٹے نے اس کی طرف التفات کیا تو ماں کو غصہ آ گیا اور دو بجھتی ہے کہ بیٹے کو اپنے ہاتھ میں قابو رکھنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ بہو کی برائیاں کھوج کھوچ کر نکالی جائیں اور بیٹے کو بتائی جائیں اور اگر وہ خرابیاں نہ ہوں تو پھر بنائی جائیں۔وہ تو کوئی مشکل کام نہیں ہے۔بعض لوگ بڑی آسانی سے تھے گھڑ لیتے ہیںاور پھر اگر کبھی اس نو بیاہتا نے اگر وہ غریب گھر سے امیر گھر میں آئی ہے اپنے بھائیوں سے کوئی حسن سلوک کر دیا تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے حالانکہ اکثر صورتوں میں ایسی عورتیں احتیاط کرتی ہیں اور اگر حسن سلوک کرتی ہیں تو اپنی کمائی سے کرتی ہیں مگر یہ ساسیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں، خدا کرے آپ میں سے کوئی ایسی ساس نہ ہو، یہ بھی برداشت نہیں کرتیں کہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی جو کہ اپنے خاوند پرتمام بوجھ نہیں ڈالتی بکہ خود کھاتی ہے کچھ اپنے گھر پر خرچ کرتی ہے کچھ اپنے غریب بھائیوں اور بہنوں کو دیتی ہے تو یہ چیز ان کی برداشت سے باہر ہوتی ہے اور وہ خاوند کے کان بھرنے شروع کر دیتی ہیں اور کھتی ہیں کہ اس طرح ہم نے اپنے بیٹے کو جیت لیا ہے اور وہ ہمارا بن کر رہ رہا ہے۔وہ ہمارا تو بنا ہے یانہیں یا اپنا نہیں سکے گا۔کیونکہ اس بیٹے کی زندگی تو اجیرن ہو جائے گی جس کا گھر ہی نہیں ہیں سکا۔