حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 19

14۔یعنی جب تک خدا آپ کا قتم نہیں بنتا جب تک خدا آپ کی ذات میں ظاہر نہیں ہوتا وہ آپ کے لئے بھی خیالی ہے اور غیروں کے لئے بھی خیالی ہے۔خدائے واحد کی ذات میں تمام کائنات کو اکٹھا کرنا فرضی باتوں سے ممکن نہیں ہے پہلے خدا آپ کی ذات میں جلوہ گر ہونا چاہئے پہلے آپ کی تاریکیاں روشنی میں تبدیل ہو جانی چاہئیں پھر وہ خدا آپ کی ذات میں اس طرح دکھائی دے گا جیسے روشنی ذرات سے ٹکرانے کے بعد دکھائی دیتی ہے فی ذاتہ دکھائی نہیں دیا کرتی۔کائنات کے آئین میں خدا کی جلوہ گری اس حقیقت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ب اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ روشنی از خود نظر آنے والی چیز ہے یہ بالکل جاہلانہ تصور ہے۔آج کی سائنس کی دنیا میں سائنس پڑھنے والا بچہ بچہ جانتا ہے کہ روشنی ایک نظر نہ آنے والی چیز ہے جب تک وہ کسی وجود سے ٹکرا کر اس کی ہیئت کو آنکھوں تک نہ پہنچائے اگر آپ کے سامنے سے روشنی حکمرا شکر کر مختلف وجودوں کا عکس آپ کی آنکھوں تک نہیں پہنچاتی اُس وقت تک روشنی لیظا ہر روشنی ہونے کے باوجود آپ کے لئے روشنی نہیں ہے۔اسی لئے خدا نما وجودوں کی ضرورت پڑتی ہے۔اسی لئے خدا کو کائنات کے آئینہ میں دیکھنا پڑتا ہے کیونکہ وہ سب روشنیوں سے لطیف تر روشنی ہے اور براہ راست اس کا دیدار ممکن ہی نہیں ہے۔مذہبی جماعت کا سب سے اہم مشن پس اس پہلو سے حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و تم خدا نا وجود بنے تو ہم نے خدا کو دیکھا۔آپ ایسے خدا نما بنے اور آپ پر خدا اس طرح جلوہ گر ہوا کہ کائنات کے ذرہ ذرہ میں خدا دکھائی دینے لگا۔قرآن کریم کو اگر آپ غور سے پڑھیں اور دل لگا کر