حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 20
۲۰ اُس کا مطالعہ کریں تو سب سے زیادہ گہرا اثر کرنے والا قرآن کریم کا وہ حصہ ہے جو خدا کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلووں پر گفتگو کرتا ہے مختلف رنگ میں خدا تعالیٰ کی صفات بیان کی جاتی ہیں کبھی براہ راست اور کبھی کائنات کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں کبھی خود انسان کے اپنے نفس کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں اور ہر جگہ آپ یہ دیکھیں گے کہ براہ راست خدا دکھائی نہیں دیتا۔مگر جب اُس کی صفات جلوہ گر ہوتی ہیں تو خدا دکھائی دیتا ہے پس اس پہلو سے جب کہا جاتا ہے کہ بن دیکھے کسی طرح کسی مہ رخ پر آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل تو ایک مذہبی جماعت کے لئے سب سے اہم مشن یہ بن جاتا ہے کہ خیالی صنم کو حقیقی منم میں تبدیل کیا جائے۔وہ صنم دنیا کو تب دکھائی دے گا جب آپ کی ذات میں اُس کے جلوسے ظاہر ہوں۔اور خدا جس ذات میں جلوہ گر ہو اس کو پھر است اروں کے ذریعہ دکھانے کی ضرورت نہیں رہتی۔وہ خود اپنی صفات میں ایسا روشن ہے کہ جس ذات ہیں وہ چمکتا ہے اُس ذات کے حوالے سے خُدا دنیا کو دکھائی دینے لگ جاتا ہے اور اس کا معنی ہے خدا نما ہوتا۔مگر خدا نما بننے سے پہلے خود خدا کو اپنی ذات میں جلوہ گر کرنا ضروری ہے اپنے اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔اگر آپ غیروں کی برائیوں کی تلاش میں رہیں اور یہ دعوے کریں کہ غیروں کی برائیاں ہم دور کریں گے اور اپنی برائیوں کی تلاش سے آنکھیں بند کر لیں اور اگر کوئی توجہ بھی دلائے تو آپ کو غصہ محسوس ہو اس طرح تو خُدا کو اپنی ذات میں جلوہ گر کرنا آپ کے لئے ممکن نہیں ہے۔متضاد طرز عمل کو چھوڑ دیں پس یہ جو طرز عمل ہے یہ اندر کی دنیا کو تاریک سے تاریک تر بناتا چلا جاتا ہے