حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 159

۱۵۹ روان چڑھائیں گی تو میں یقین دلاتا ہوں کہ اپ کا احسان آئندہ نسلوں پر بڑا بھاری ہوگا۔تسلا بعد نسل احمدی بچیوں کو اچھے خاوند عطا ہوتے رہیں گے۔نیک دل محبت کرنے والے خیال رکھنے والے، قربانی کرنے والے، ایسے خاوند عطا ہوتے رہیں گے جیسا ہم نے حضرت محی وسطی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صورت میں دیکھا۔حضرت محمد مصطف صلی الہ علیہ وعلی آکر تم کا یویوں سے سن سلوک آله اناکس پر میں اب اپنی بات کو ختم کرتا ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ درستم کے اپنی ازواج سے تعلقات کے متعلق آپ جتنا بھی مطالعہ کریں کبھی ایک مرتبہ بھی آپ نے از وانج کی زیادتی کے جواب میں زیادتی نہیں کی۔آپ نے بعض دفعہ اپنی ازواج مطہرات سے سخت باتیں بھی سنیں لیکن کبھی بھی غصے سے اُن سے کلام نہیں کیا اور غصے سے کلام نہ کرنا یہ تو بہت مشکل کام ہے۔لیکن کچھ نہ کچھ تھی تو ہمیں حضرت محمد مصطفے رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے سیکھنا چاہیئے۔غصے کے نیتجو می بے قابو ہوکر عورتوں پر ہاتھ اٹھ بیٹھنا ان کی بے عریاں کرنا، اُن کے ماں باپ کو گالیاں دینا، یہ توایسی بد تمیزیاں ہیں جن کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔آنحضرت صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا طریق تو یہ تھا کہ گھر آتے تھے تو وہ کام جو عورتوں کو آپ کے کرنے چاہئیں تھے وہ خود اپنے ہاتھ سے کیا کرتے تھے اور پھر عورتوں کی بھی ان کے گھریلو کاموں میں مدد شروع کر دیتے تھے کیسا عظیم الشان اسوہ تھا اور اس کے نتیجے میں ہی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نیک نسلیں پیدا ہوئی ہیں جن کا آئندہ نسلوں پر احسان رہا۔پس آپ کو اس پہلو سے اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیئے کہ صرف لڑکیوں کی نہیں لڑکوں کی بھی۔اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان کے اندر نفیس جذبات پیدا کریں۔ان