حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 160 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 160

14۔کے احساسات کو کرخت نہ ہونے دیں۔اُن کے اندر نرمی پیدا کریں۔اُن کے اندر نازک جذبات پیدا کریں اور عورت کی عزت کا خیال ان کے دل میں جا گریں کریں اور ان کے ساتھ پیار بے شک جتنا مرضی کریں لیکن لڑکیوں کے مقابل پر ان کو فضیلتیں نہ دیں ورنہ ان کے دماغ خراب ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا کرے یہیں بہت ضرورت ہے کہ ہمارے گھر کے ماحول اچھے ہوں، پیارے ہوں، امردوں کی بیٹیوں کی بیٹیوں کی ہر وقت یہ خواہش ہو کہ ہم گھر واپس لوٹیں اور ہمیں چین آئے۔آپس میں ایک دور سے محبت ہو ، پیار ہو، گھر کے ماحول میں جو مزا آئے، باہر کی سوسائٹی میں کچھ بھی اس کے مقابل پر مزا نہ ہو۔لسكنوا النما کی ایک تصویر بن جائیں۔ہر وقت جو انسان باہر رہتا ہے وہ خواہ جتنا مرضی کام میں مصروف ہو اس کو مراتب ہی آئے جب وہ گھر کی طرف لوٹے۔ایسے گھروں کا یہاں فقدان ہے۔مغربی تہذیب ان گھروں سے عاری ہو رہی ہے۔بعض لوگ بھول ہی چکے ہیں کہ ایسے گھر بھی دُنیا میں ہوا کرتے تھے وہ آپ نے پیدا کرنے ہیں اور پیدا کریں اور پھر دوسری خواتین کو بلایا کریں، ان کو اپنے گھروں کے ماحول دکھایا کریں۔ان کو بتائیں کہ کس طرح آپ سکون سے رہتی ہیں اور آپ کچھ کھ نہیں رہیں بلکہ بہت کچھ پارہی ہیں۔دین حق - تاقل) نے آپ کو غلام اور قیدی نہیں بنایا بلکہ دین حق ناقل) نے آپ کو عظمتیں دی ہیں اور دلوں کی دائمی تسکین بخشی ہے۔یہ وہ نمونہ ہے جس کو پیش کرنے کے نتیجے میں آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے دین حق۔۔۔ناقل) کی بہترین پیغامبرین جائیں گی ورنہ زبانی باتوں کو آج کی دنیا میں کوئی نہیں سنا کرتا۔للہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ان سب پہلوؤں کو جوئیں نے بیان کئے ہیں ان کو آپ حرز جان بنا لیں۔اپنے دل میں جگہ دیں۔اپنے اعمال میں ڈھال لیں اور احمدی گھڑوں کے تعلقات تمام دنیا کے گھروں سے بہتر تعلقات بن جائیں، اللہ تعالیٰ ہیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔