حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 158

سے ملے کہ دونوں روز ہے تھے۔وہ روتا غم کا نہیں تھا، انبساط کا نہیں تھا، وہ ایک عجیب سارونا تھا۔جیسے غلط فہمی کا شکار ہو کر دو روٹھے ہوئے دل جب دوبارہ ملتے ہیں تو ایسی کیفیت تھی۔جب میں نے یہ واقعہ سناتو مجھے بچپن کی اور بہت سی ایسی باتیں یاد گئیں۔دل کے دہ حلیم ہی تھے لیکن دیکا بہت خطرناک تھا اس میں کوئی شک نہیں اور مجھے دبکے یاد ہیں اکثر مجھ سے ناراضگی اسی بات پر ہوتی تھی پہنیں مجھے مارتی تھیں اور میں اگر دفاع کروں یا سختی کی بات کروں تو کٹی پھر مجھے مار پڑتی تھی لیکن بعد میںسمجھ آئی کہ عورت کا احترام ملاہے دل میں پیدا کی گیا تھا کہ ایک نازک جنس ہے اور تم نے کبھی بھی اس ذمہ داری کو بھلانا نہیں کہ خدا تعالیٰ جب کم زوروں کی ذمہ داریاں تمہارے سپرد کرے۔نازک جذبات والوں کی ذمہ داریاں تمہارے سپرد رے تو تمہیں قربانی کرنی چاہیے اور انکے جذبات کا احساس کرنا چاہیے۔یہ وہ پیغام تھا جو اس وقت ہیں سمجھ نہیں آیا اور بعد میں ہمارے دل میں سرایت کر گیا۔ہمارے خون میں داخل ہو گیا۔بعد میں پتہ چلا کہ یہ کیا ہورہا تھا۔میں چاہتا ہوں کہ مائیں اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس کے بالکل برعکس صورت ہے اکثر گھروں میں نہ صرف یہ کہ لڑکے کی خواہش ہے بلکہ ماؤں کو مردوں سے زیادہ خواہش ہوتی ہے۔لیکن جب لڑکے پیدا ہوں بلکہ زیادہ بھی ہوں تب بھی ان کو سر پر چڑھا کر رکھتی ہیں اور بچیوں کی عزت نہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہی مرد ظالم بن جاتے ہیں اور بڑے ہو کر پھر صورتوں پر ظلم کرتے ہیں اور کس طرح ایک نسل کا دوسری نسل پر برا اثر پڑتا ہے اور دوسری کا تیسری نسل پر برا اثر پڑتا ہے بیس اگر آپ نے اپنے اوپر رحم کرنا ہے تو اپنے لڑکوں کی صحیح تربیت کریں اور عورت کے حقوق ان کو بچپن سے بتائیں اور اپنی بہنوں کی عزت کرنا سکھائیں اور اس بات پر نگران رہیں کہ ان سے وہ سخت کلامی بھی نہ کریں۔اگر ایسے لڑکے آپ پیدا کریں گی اور ایسے لڑکے