حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 113

١١٣٠ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فذكر ان نَفَعَتِ الذكرى ( سورۃ الاعلیٰ آیت (۱۰) نصیحت میں بہت بڑی طاقت ہے پس اے مخاطب ! تو نصیحت کرتا چلا جا۔- اس سے ظاہر ہے کہ محمد مصطفے صل للہ علیہ علیہ وسلم کو بھی سب سے بڑا طاقتور ہتھیار جو عطا کیا گیا وہ نصیحت کا ہتھیار تھا اور آپ سب کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی غلامی میں جو سب سے طاقتور ہتھیار دیا گیا ہے وہ نصیحت ہی کا ہتھیار ہے۔پس طعنه آمیزی کے رنگ میں نہیں ، چرکے لگانے کی خاطر نہیں ، ماؤں کو قابل اصلاح بیٹوں کے طعنے دیتے ہوئے نہیں اسی طرح بھائیوں کو بہنوں کے طعنے دیتے ہوئے نہیں بلکہ خالصتاً انسانی ہمدردی کے زیر اثر اور دینی۔ناقل معاشرے کی حفاظت کی خاطر پاک دل سے درد ناک طریق پر نصیحت کریں جیسا کہ حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کے کلام میں یہ شعر آپ نے ابھی تنا ہے۔ہمیں کچھ کہیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غربیانہ کوئی جو پاک دل ہود سے دل و جاں اُس پہ قرباں ہے آپ فرماتے ہیں میں جو نصیحت کرتا ہوں کسی فقہ کی بنا پر نہیں کرتا۔حقیقت یہی ہے که نصیحت اور غصہ کا باہم کوئی جوڑ نہیں ہے۔جس نصیحت میں فقہ پیدا ہو جائے جس نصیحت میں نفرت شامل ہو جائے وہ نصیحت فائدہ کی بجائے ہمیشہ نقصان پہنچاتی ہے اسی لئے حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہوا نے نصیحتیں فرمانے کے بعد نصیحتوں کا بنیادی فلسفہ بھی بیان فرما دیا۔آپ نے فرمایا میں جو نصیحتیں کرتا ہوں خدا گوا ہے کہ میرے دل میں بدوں کے خلاف نہ کوئی غصہ ہے اور نہ کوئی کینہ، ہاں میں پاک اور نظریبانہ نصیحت کے ذریعہ بدی کے خلاف ایک جہاد کر رہا ہوں ، نصیحت کی یہ آواز میں میرے دل سے اُٹھی ہیں اور میں مجبور ہوں کہ بنی نوع انسان کی بھلائی کی خاطر دل سے نکلی ہوئی ان آوازوں کو بنی نوع انسان