حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 114

۱۱۴ تک پہنچاؤں اسی لئے فرمایا کر ہمیں کچھ کہیں نہیں بھائیو نصیحت ہے غریبانہ جہاں تک اس نصیحت کے اثر انداز ہونے کا تعلق ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کر کوئی جو پاک دل ہوئے دل و جاں اس پہ قرباں ہے یعنی میں تو ایک عاجز بندہ ہوں یہ صیح ہے کہ خدا نے مجھے بہت بڑا مقام عطا کیا ہے مگر دل کی کیفیت یہ ہے کہ جہاں بھی پاکی دیکھتا ہوں، جہاں کوئی نیکی دیکھتا ہوں میرا دل اور میری جان اس پر فدا ہونے لگتی ہے۔الغرض اصل ہتھیار نصیحت ہی ہے۔یہی وہ ہتھیار ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو عطافرمایا گیا۔یہی وہ ہتھیار ہے جو حضرت مسیح موعود در آپ پر سلامتی ہو) کو عطا فرمایا گیا۔اور یہی وہ ہتھیار ہے جو دنیا کے ہر ملک میں خواہ مشرقی ہو یا مغربی جو یکساں قوت کے ساتھ کارگر ثابت ہو سکتا ہے۔اس کام کے لئے کسی حکومت کی ضرورت نہیں ہے۔ضرورت ہے تو صرف دل کی پاکی کی اور دل کی عاجزی کی اور نصیحت کو پُر درد بنانے کی جہاں تک حالات معلوم کرنے اور جستجو کر کے حالات سے آگاہ ہونے کا تعلق ہے وہ ضرور کریں۔یہ نظام جماعت کے فرائض میں شامل ہے لیکن ایسا سختیوں کی خاطر نہیں ملیکہ نصیحت کے ذریعہ اصلاح کرنے کی خاطر کریں۔نصیحت اور علاج کے مختلف ادوار اس ضمن میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ سختی بھی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک سختی یہ ہے کہ اصلاح کی خاطر بر دستی کی جائے اور ایسے ذرائع استعمال کئے جائیں کہ گویا کسی کو کوئی خاص روش ترک کرنے پر جسمانی طور پر مجبور کر دیا جائے۔بالغ لوگوں کے خلاف ایسی سختی اسلام میں جاڑا نہیں ہے۔اسلام ایسے لوگوں کی اصلاح کے لئے نصیحت سے کام لینے کی تعلیم دیتا ہے۔لیکن نصیحت کے دور کے بعد (جو بہر حال مقدم ہے) ایک