حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 112
۱۱۲ سے سب روکیں اُٹھ گئی ہیں، اب ہم ایسی دنیا میں پہنچ گئے ہیں جہاں سوال کرنے یا روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں اور پابندیاں عائد کرنے والا کوئی نہیں، اب جو چاہو کر درجیسے چاہو رنگ رلیاں مناؤں گویا جو جی میں آئے کو گزرنے کی چھٹی ہے۔حالانکہ جس وقت وہ اس قسم کے خیالات کو دل میں جگہ دیتے ہیں وہ پابندیوں سے چھند کا را حاصل نہیں کرتے بلکہ اسلام سے ہی چھٹی اختیار کر لیتے ہیں۔ہوسکتا ہے شروع میں یہ قدم خطرناک نتائج پر منتج نہ بھی سولیکن اس اقدام کے پیچھے جو نیتیں کار فرما ہوتی ہیں وہ پھر پھولتی پھلتی ہیں اور رنگ لائے بغیر نہیں رہتیں وہ لوگ جو محض اس لئے اپنے کردار کو تبدیل ہونے دیتے ہیں کہ ظاہری پابندی کوئی نہیں ان کے دلوں سے نمذہبی پابندیاں بھی ایک ایک کر کے رخصت ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔جب وہ اپنے آپ کو مذہبی پابندیوں سے بھی آزاد کر لیتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا جاسکتا شروع کا وقت ہوتا ہے جب نظام کو ان کا نگران ہوتا چاہیئے اور خبردار رہنا چاہیئے کہ وہ کس حال میں ہیں اور انہیں یہاں آزاد معاشرہ کی خرابیوں سے بچانے کے لئے کن پیش بندیوں کی ضرورت ہے۔نظام جماعت کو ایسے تمام لاگروں میں نگرانی ر نگرانی کا انتظام کرنا چاہیئے جہاں معصوم بچیاں، جو اپنے معاملات کا پورا فہم نہیں رکھتیں یا اسی طرح ایسے نوجوان لڑکے جو اپنے ملک میں بھی اچھے کردار کا نمونہ دکھلانے والے ننھے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ان کے لئے اخلاقی لحاظ سے حفاظت کے انتظام ہونے چاہئیں۔نظام جماعت کو ان پر نظر رکھنی چاہیے اور ان کی تربیت میں حصہ لینا چاہیئے۔ہمارا اصل ہتھیار نصیحت ہی ہے جبر اسلام میں نہ وہاں جائز تھا جہاں سے وہ جرمنی میں نئے آباد ہونے والے) آئے ہیں اور نہ یہاں جائز ہے۔سب سے بڑی قوت بھی پاک نصیحت کی قوت ہے۔یہ اتنی بڑی قوت ہے کہ اس کے مقابل پر دنیا کی کوئی قوت کام نہیں کر سکتی۔قرآن مجید