حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 111
نہیں چھیڑنا چاہتا ہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حیا ایک احمدی خاتون کا سب سے بڑا ہتیار ہے۔آپ کی جو تقریبات ہیں وہ اس ضمن میں حیا ماپنے کا پیمانہ یا نشان بن جاتی ہیں، ایک قسم کا تھرمامیٹر بن جاتی ہیں۔خاص طور پر شادی بیاہ کی تقریبات کے متعلق اطلاعیں ملتی ہیں کہ یہاں کے ماحول سے متاثر ہو کر پردے کا پوری طرح لحاظ نہیں رکھا جاتا۔عورتوں کی محفل میں مرد بھی آجاتا ہے ہوتے ہیں۔ویڈیو فلم بھی بن رہی ہوتی ہے۔فریلیں بھی پڑھی جارہی ہوتی ہیں۔محفلیں بھی ہم رہی ہوتی ہیں۔اس قسم کا غیر اسلامی ماحول برداشت کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم دوسروں کی نظریں قدامت پرست شمار نہیں ہوں گے ان کا انداز فکر یہ ہوتا ہے کہ ہم ہیں تو سہی کچھ قدامت پرست لیکن اتنے بھی نہیں گئے گزرے کہ اس قسم کی بے حیائیاں نہ کر سکیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ جائز ہے۔یہ طرز فکر اور طرز عمل ہرگز درست نہیں ہے۔یہ ایسے اقدامات ہیں جو رفتہ رفتہ آپ کو خطر ناک مقام تک پہنچا دیں گے۔آپ یہاں احمدی معاشی ہے کی حفاظت کریں اور جہاں بھی معاشرتی قدریں حیا پر حملہ آور ہوں وہاں آپ جیا کی حفاظت اور جا آور ہوں جیا کی میں سینہ سپر مو جائیں۔موجا نظام جماعت کو لاگروں میں نگرانی ک انتظام کرنا چاہیے لاگروں ( یعنی عام لوگوں کے لئے حکومت کی مقرر کر دہ اجتماعی رہائش گاہوں) میں ویسے ہی لڑکوں اور لڑکیوں کے باہم اختلاط کے مواقع موجود ہیں۔اُدھر نئے آنے والے جو لوگ باہر سے آکر آباد ہوتے ہیں انہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ اچانک ایک نئے تبدیل شدہ موسم سے آدو چار ہوئے ہیں۔وہ بھول جاتے ہیں کہ اصل موسم رہی ہے جو روحانیت کے لحاظ سے ہمیشہ یکساں رہنے والا موسم ہے اور وہ ہے اسلام کا اپنا مخصوص موسم۔وہ ایک ایسا موسم ہے جو ملکوں کے فرق سے تبدیل نہیں ہو سکتا نئے آنے والے اس بار یک فرق کو نظر میں نہیں رکھتے۔مغربی دنیا کی آزادیوں میں اچانک آکر وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب ہمارے راستے