حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 110
صورت پردہ کرتی ہے مگر حیا کی کمی کی وجہ سے وہ سوٹ سٹی کے لئے خطر ناک بن جاتی ہے ، ور نہ بالعموم ظاہری پر وہ حیا کی حفاظت کرتا ہے۔چنانچہ مشرقی کردار میں سب سے زیادہ کیلئے نے جیا کی حفاظت میں حصہ لیا ہے۔اس لئے اپنی حیا کی حفاظت کریں اور جس طرح بھی ممکن ہو اس کی حفاظت کریں کیونکہ جیا خود آپ کی حفاظت کرے گی۔ہندوستان کے مشہور شاعر کیرالہ آبادی نے پو پاکستان کے قیام سے پہلے فوت ہو گئے تھے پردے کا مضمون بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہے حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہی تو کام دیں گی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک مراد ان کی یہ تھی کہ ہماری عورتوں کی عزت اور حرمت کی حفاظت کے لئے سہارے پاس جو تلوار ہوا کرتی تھی یعنی جو سیاسی قوت ہیں نصیب تھی وہی باقی نہ رہی تو یہ چلمنوں کی تیلیاں یعنی شکی ہوئی چھتیں ہماری عورتوں کی عزت اور حرمت کی کب تک حفاظت کر سکتی ہیں یہ شعر بڑا طاقتور ہے اور شعریت کے لحاظ سے بہت بلند ہے لیکن فی الحقیقت سچائی سے عاری ہے کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ عصمتوں کی حفاظتیں تیغ سے نہیں ہوا کرتیں عصمتوں کی حفاظتیں حیا سے ہوا کرتی ہیں اس میں نہ چلمنیں کام آتی ہیں نہ تلواریں کام آتی ہیں۔جو قومیں بے جا نے کا فیصلہ کرلیں پھر دنیا کی کوئی طاقت ان کو بے حیائی سے روک نہیں سکتی۔بر خلاف اس کے جو قومیں حیا دار رہنے کا فیصلہ کریں اُن کے پاس تلوار ہو یا نہ ہو چلمن سویا نہ ہو حیا ان کی حفاظت کرتی ہے۔اسی لئے حضرت اقدس محمد صلے صلی الہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے حیا کا مضمون بیان کرتے ہوئے فرمایا الحياء خير كه یعنی حیا ایک ایسی انسانی خوبی ہے جو تمام تر خیری خیر ہے۔اس میں توازن کا سوال نہیں اس لئے کہ جیا جیتی بھی زیادہ ہو بہتر ہی ہے۔اس کا زیادہ سے زیادہ ہونا اچھا ہی اچھا ہے اس کا نقصان نہیں اس کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔اس مضمون کو بھی بعض لوگ غلط سمجھتے ہیں لیکن اس وقت میں اس پہلو کو