حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 109

۱۰۹ حقیقتاً یہ مجھ ہی نہیں سکتے کہ وہ جیا سے عاری ہو رہے ہیں۔ان کا یہ نظر یہ ہے کہ اگر ایک ہی لاگر میں نوجوان لڑکے بھی رہیں اور نوجوان لڑکیاں بھی رہیں تو اس میں حرج کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کیا فرق پڑتا ہے اس سے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں حیا کا تصور وہ نہیں رہا جو پہلے ہواکرتا تھا۔وہ یکسر بدل کر رہ گیا ہے جبھی تو انہیں نظر نہیں آتا کہ کیوں فرق پڑتا ہے۔حیا اور ظاہری پردہ دونوں کو لازم پکڑنا ضروری ہے آپ جانتی ہیں عورت کی سب سے زیادہ حفاظت جیا کرتی ہے۔اس لئے عورت کی سب سے زیادہ اور سب سے بڑی دشمن بے حیائی ہے۔پر وہ ایک ظاہری شکل بھی رکھتا ہے لیکن اگر اس ظاہری پردہ کے ساتھ حیا کا پردہ نہ ہو تو ظاہری پردہ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اس کے برعکس اگر ظاہری پردہ نہ بھی ہو یعنی اس شدت کے ساتھ نہ ہو جیسا کہ توقع کی جاتی ہے اور جیا کا پردہ ہو تو ایسی عورت زیادہ محفوظ ہے بعض خواتین یہ بہانہ بنا دیتی ہیں کہ ہم جیا کے پردہ کی پابند ہیں اس لئے ہمیں ظاہری پردہ کی ضرورت نہیں۔یہ عذر بھی جھوٹا اور نا معقول ہے۔بات یہ ہے کہ حیا کا پردہ ظاہری پردہ کے بغیر زیادہ دیر نہیں رہا کرتا۔ایسی صورت میں محض حیا کا پردہ ایک نسل میں تو کچھ دیر چل جاتا ہے لیکن رفتہ رفتہ پھر مٹ جاتا ہے اور کلیتہ بے حیائی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ بے حیائی پہلے سے بڑھ کر خطرناک ہوتی ہے اس لئے ظاہری پردے اور حیا کے پردے میں سے ایک کو دوسے پر ترجیح دینے کا سوال نہیں ہے۔دونوں کو یکساں تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، ایک ان مضبوط قدموں کے ساتھ نہیں اپنی زندگی کے سفر میں شامل کرنے کی ضرورت ہے، البتہ حیا کو بہر حال یہ اہمیت حاصل ہے کہ سچی حفاظت عورت کی حیا ہی کرتی ہے۔بایں ہمہ حیا کی حفاظت کرنے والے ہو ظاہری ذرائع ہیں ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جیا اور حیا کی حفاظت کرنے والے ذرائع دونوں کی اہمیت اپنی اپنی جگہ مسلم ہے۔یہ استثنائی صورت ہوتی ہے کہ ظاہری طور پر ایک