حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 108
مشرق میں بعض بدیاں پائی جاتی ہیں وہاں مشرق میں بعض خوبیاں بھی ہیں۔اس کے بالمقابل مغرب بعض خوبیوں سے محروم ہوتا چلا جارہا ہے۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اہل مغرب کو بھی متوجہ کیا جائے کہ تم کون سی قدریں کھوارہے ہو۔جو خوبیاں مشرق میں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک خوبی حیا کی ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ پہلے خوبی تھی لیکن اب یہ بھی ماضی کا حصہ بن چکی ہے، مگر یہ خوبی مشرق میں اس قدر اور اس حد تک موجود تھی اور ضائع ہونے کے باوجود آج بھی یہ خوبی (حیا کی خوبی بہت حد تک مشرقی میں موجود ہے۔برخلاف اس کے یہ مغرب سے عنقا ہوتی جارہی ہے۔اس لئے آپ کے لئے جیا کی قدر کو اپنانا بہت ضروری ہے۔یہ امر بہت ضروری ہے کہ جیا کو ہرگز مرنے نہ دیا جائے اور اُسے بہر حال زندہ رکھا جائے۔کیونکہ جیا کے ساتھ انسانی کردار کا گہرا تعلق ہے۔وہ احمدی خواتین جو حیا دار ماحول میں پل کہ یہاں آئی ہیں اُن کے لئے یہاں حیا کے فقدان کی وجہ سے بہت سے خطرات درپیش ہیں۔بعض ایسی اطلاعات ملتی ہیں جن کی وجہ سے میں گہرے طور پر فکرمند ہورہا ہوں خصوصیت کے ساتھ وہ خواتین جو گزشتہ ایک یا ڈیڑھ سال کے اندر یہاں پہنچی ہیں ان کے متعلق زیادہ قابل فکر اطلاعیں مل رہی ہیں۔یہاں ایسے لاگر ہیں جہاں مرد اور عورتیں اکٹھے رکھے جاتے ہیں۔چونکہ مغرب میں جیا کا کوئی تصور نہیں اس لئے ایسے لاگروں میں قیام مسائل پیدا کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔دراصل مغرب میں آزادی کے سراسر غلط تصور کو اپنا کر عورت کی آزادی کو اس رنگ میں پیش کیا گیا کہ عورتوں کا بے صحابہ اختلاط چنداں معیوب نہ رہا۔اس کی وجیسے یورپ نے بہت نقصان اٹھائے حتی کہ ان کی عالمی زندگی پارہ پارہ ہو کر تباہ ہو گئی۔پہلی نسلوں سے آئندہ نسلوں کا تعلق کٹ گی یعنی Generation gap (پرانی نسل اور نئی نسل کے درمیان رونما ہونے والا خلاء پیدا ہوا اور بڑھتا ہی چلا گیا ان سب خرابیوں اور قباحتوں میں بے حیائی نے بہت بڑا کر دار ادا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ مغرب میں حیا کا تصور مشرقی حیاء کے تصور سے اس قدر دور جا چکا ہے کہ اب مغرب والے نے جرمنی میں عام لوگوں کے لئے حکومت کی مقدر کر دہ اجتماعی رہائش کھو ہیں