حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 103
۱۰۳ کا سفر اختیار کرے یا مشرق کا سفر اختیار کرے ، وہ افریقہ جائے یا امریکہ جائے اُس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اس کردار کی حفاظت کرے۔اپنے قول یا اپنے فعل سے کسی رنگ میں بھی دنیا پر یہ تاثر نہ پڑے دے کہ وہ کسی قوم کا نمائندہ ہے یا کسی عصبیت کا نمائندہ ہے۔برخلاف اس کے وہ بلا امتیاز مذہب و ملت اور بلا امتیاز تو میت وہ ہمیشہ خدا کا نمائندہ بنا رہے۔اگر انصاف کا تقاضا ہو کہ کسی غیر مذہب کی تعریف کی جائے اور اُس مذہب کی خوبیوں کو تسلیم کیا جائے تو اسلام اُس سے یہ تقاضا کرتا ہے ، اسلام کا خدا اُس سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ محض اسلام کی عصبیت کی خاطر دو سر کی خوبیوں سے آنکھیں بند نہ کرو کیونکہ قرآن کریم نے سعود غیروں کی بعض خوبیوں کا ذکر کیا ہے۔آج کل یہ تاثیر ہے کہ یہود اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں لیکن سب سے بڑے دشمن تو وہ محمد رسول اللہ صلی للہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے تھے اُس زمانہ میں جب اُن کی دشمنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی قرآن نے ان کی بعض باتوں کی تعریف میں ایسی باتیں کی ہیں کہ انسان انہیں پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔کتنا عظیم محسن انسانیت تھا وہ نبی اور اور کتنا بڑا علمبردار تھا وہ انصاف کا کہ اس زمانہ میں جبکہ بعض اغیار کی دشمنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے وہ جہاں ان کی برائیاں گنواتا ہے وہاں بڑے حوصلہ سے ان کی خوبیوں کا بھی اقرار کرتا چلا جاتا ہے۔پس یہی وہ اسوہ ہے جو دنیا میں زندہ رہنے کا اہل ہے۔اور یہی وہ اسوہ ہے جو بالاخر مشرق و مغرب کو ملانے کا موجب بنے گا اور یہی وہ اسوہ ہے جو مشرق و مغرب کو بالآخر ملانے کی خدائی تقدیر کو عملاً ظاہر کرنے والا ثابت ہو گا۔اور دُنیا کی کوئی تدبیر اس تقدیر کو شکست نہیں دے سکتی۔مشرق و مغرب کو ملانے والی تقدیر احمدیوں کے ذریعہ ظاہر ہوگی گر یہ تقدیر ان احمدیوں کے ذریعہ ظاہر ہوگی اور ہورہی ہے جو تمام دنیا میں اس غرض سے پھیلا دیئے گئے ہیں۔خدا کی تقدیر نے ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ لوگ جو پہلے اپنے ملک