حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 102
١٠٢ علاقوں میں بستی ہیں۔بلکہ اسلام کا تعلق تو قرآن سے ہے، اسلام کا تعلق تو محمد رسول لل صلالہ علیہ وعلی آلہ سلم کے اسوہ حسہ سے ہے جو ہر قسم کے اتہام سے بالا ہے ، پاک ہے جو شفاف ہے، بے داغ ہے۔اس اسوہ حسنہ کو پیش کرنا ہمارا کام ہے۔ہم یہ اسوہ خواہ جرمنی میں پیش کریں خواہ یورپ کے دوسرے ملک میں یا امریکی یا افریقہ میں یا چین میں یا جاپان میں ملکوں کی تبدیلی کے ساتھ یہ اسو بحسنہ تبدیل نہیں ہو گا اور اسی طرح ملکوں کے فرق کے لحاظ سے اس اسوہ حسنہ کی تاثیر میں فرق نہیں پڑے گا کیونکہ یہ نہ شرقی ہے اور نہ یہ مغربی ہے۔اسلام کے ذریعہ مشرق اور مغرب کو ملانے کی خدائی تقدیر پس وہ مقولہ جو کسی انگریز مصنف نے ایک دفعہ استعمال کیا اور پھر جو دنیا بھر میں بہت مشہور ہوا یہ ہے کہ : "The east is east and the west is west and never the twins shall meet" یعنی مشرق، مشرق ہی ہے اور مغرب مغرب ہی ہے اور یہ دونوں کبھی نہیں ملیں گے۔اس مقولہ کو اس کے کہنے سے تیرہ سو سال پہلے یا اگر یہ اس سے بھی صدی پہلے کا مقولہ ہے تو کہ لیجئے بارہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمیشہ کے لئے جھٹلا دیا تھا۔کیونکہ خدا نے آسمان پر یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ مشرق بھی خدا کا ہے اور مغرب بھی خدا کا ہے ، ان دونوں کو ضرور ملا دیا جائے گا۔یہ خدائی تقدیر ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔مشرق اور مغرب کو ملانے کی بنیاد مکہ اور مدینہ میں اس وقت پڑی جب وہاں آنحضرت صلی لہ علیہ وعلی آلہ وسلم ظاہر ہوئے اور آپ کے متعلق خدا نے یہ اعلان فرمایا کہ وہ وجود ظاہر ہو چکا ہے جس کا نور نہ مشرق کا ہے نہ مغرب کا ہے بلکہ وہ دونوں میں قدر مشترک کا درجہ دیتنام رکھتا ہے۔پس احمدی ہونے کی حیثیت میں آپ اُس نور کی نمائندہ ہیں۔ہر احمدی جو مغرب