حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 161

حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 104

۱۰۴ سے باہر نکلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے ان کو بھی فرشتوں نے زبر دستی دھکیل دھکیل کر اپنے پیارے وطن کو چھوڑنے اور دو کہ وطنوں میں جا کر آباد ہونے پر مجبور کر دیا۔یہ اس لئے نہیں تھا کہ اُن کے اقتصادی حالات بدل جائیں۔یہ اس لئے تھا کہ نا خدا کے وہ نوشتے پورے ہوں جن کا پورا ہونا ہمیشہ سے مقدر تھا۔اکس تقدیر الہی کی رو سے بالا فرستی دینی اقل) تعلیمات اور آنحضر صل اللہ علیہ وعلی آلہ سلم کا پاک اسوہ دنیا میں پھیلایا جائے گا اور یہی پاک اسوہ دنیا پر غالب آئے گا کیونکہ یہ دنیا کے دل جیتنے میں کامیاب ہوگا۔اس اسوہ حسنہ کے غلبہ کے نتیجے میں دنیا ایک ایسے نئے دور میں داخل ہوگی جہاں شرق اور مغرب کی تمیزیں مٹادی جائیں گی اور دنیا میں انسان بحیثیت انسان ملت واحدہ کا فرد بن کر زندگی بسر کرے گا۔یہ وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کے حصول کے لئے بالعموم یورپ میں اور بالخصوص جرمنی میں کوشش ہونی چاہیے کیونکہ میرے علم کے مطابق آج سارے یورپ میں سے کسی ایک ملک میں احمدی اس کثرت سے آباد نہیں ہوئے جیسا کہ جرمنی میں آکر آباد ہوئے ہیں اور یہ ایک ایسی بدیہی حقیقت ہے جو صاف نظر آرہی ہے۔مثال کے طور پر یہ لجنہ کا ایک اجتماع ہے۔خدا کے فضل سے کنارش تک یہ ہال بھرا ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق بارہ بجے تک حاضری دو ہزار تک پہنچ چکی تھی اور مرات ابھی آرہی تھیں۔اسی طرح خدام کا علیحدہ اجتماع منعقد ہورہا ہے۔ان کے اجتماع میں بھی خدا کے فضل سے بہت چہل پہل ہے جو لوگ ایسے مواقع پر ربوہ سے آتے ہیں وہ کہتے ہیں ہیں تو یوں لگتا ہے یہاں ایک چھوٹا سا ربوہ قائم کر دیا گیا ہے۔لیکن یہ ربوہ چھوٹا نہیں رہنا چاہیے اس راوہ کو پھیت اور بڑا ہونا چاہیے۔کیونکہ ہجرت کے ساتھ خدا کا توسیع مکان کا وعدہ ہے۔یہ دعدہ ہے خدا کا کہ تم ہجرت کر وہم وسعتیں عطاکریں گے جن وسعتوں کا وعدہ دیا گیا ہے ان میں مکانی وسعتوں کے علاوہ مذہبی، روحانی اور اخلاقی وسعتیں بھی شامل ہیں۔ان دوستوں کا جنڈا آپ کے ہاتھوں میں تھمایا گیا ہے۔اس لئے اگر آپ نے اس میں خیانت کی ، اس عظیم الشان وقع سے فائدہ نہ اٹھایا اور عصبیتوں سے کلیتہ پاک ہو کر دین حق - ناقل کا پیغام اپنے قول اور خوبصورت