حوّا کی بیٹیاں اور جنت نظیر معاشرہ — Page 21
۲۱ بعض دفعہ اس کے باوجود آپ واقعتہ باہر کی دنیا کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں (واقعہ ان معنوں میں کہ بڑے خلوص کے ساتھ) آپ واقعتہ بڑے گہرے جذبے کے ساتھ دنیا میں پاک تبدیلیوں کو روتا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں حالانکہ آپ اپنے وجود کو تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں۔چنانچہ بہت سی ایسی مائیں ہیں جو ہر قسم کی بدیوں میں مبتلا ہیں مگراپنی اولاد کو اچھا دیکھنا چاہتی ہیں، ان کے اندر روشنی دیکھنا چاہتی ہیں۔یہ وہ تضاد ہے جس سے وہ خود باخبر نہیں ہوتیں۔اگر اُن کی اولاد کے لئے وہ صفات حسنہ اچھی ہیں تو ان کی اپنی ذلت کے لئے کیوں اچھی نہیں۔اور جو ان کی ذات کے لئے اچھی نہیں وہ ان کی اولاد کے لئے بھی اچھی نہیں ہو سکتیں۔ان معنوں میں کہ ان کی اولاد جانتی ہے کہ ماں کا دل کہاں ہے اور اسے دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔آپ کی تمنائیں بورخ بھی اختیار کریں گی، اولاد بھی آپ کی تمناؤں کا ہی رُخ اختیار کرے گی۔وہ آپ کی زبان کی جو کسی اور رخ پر جاری ہے کوئی پرواہ نہیں کریگی۔انسانی فطرت کے گہے فلسفے پس حضرت اقدس مسیح موعود آپ پر سلامتی ہو نے اس کلام میں نہیں انسانی فطرت کے گہرے فلسفوں سے آگاہ فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا۔کہ اسے قوم تم خدا نما وجود بننا چاہتے ہو تو پہلے خو خدا کو دیکھو۔خیالی تم سے تعلقات نہ جوڑو۔بلکہ ایسے نم سے محبت کرو جو تمہیں دکھائی دینے لگے۔فرمایا - 8 دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی اگرتم خدا کو دیکھ نہیں سکتے تو کم سے کم گفتار تو ہو کچھ گفت وشنید تو ہو کچھ محبت اور پیار کے آثار تو ظاہر ہوں۔یہ وہ مضمون ہے جس کی آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔اور احمدی ماؤں کو احمدی باپوں سے بڑھ کر ضرورت ہے کیونکہ بچے اُن کی کوکھ سے